محترمہ سدرہ ندیم کا شمار دنیائے ادب کی عظیم تخلیقی خواتین میں سے ہوتا ہے۔ وہ علم و ادب سے گہرا ربط رکھتی ہیں۔ ان کا تخریج شدہ مقالہ محترم سلیم عاقل کی شعری خدمات نظروں سے گزرا۔ کافی دل چسپ، پر مغز اور معلومات سے بھرپور لگا کہ کیسے وہ شروع شروع میں کھیتی باڑی کا کاروبار کیا کرتے تھے لیکن بعد میں اڈا مینجر مقرر ہوئے اور اپنے آبائی پیشہ یعنی کھیتی باڑی کو ترک کرنا مناسب سمجھا، لہذا اُنھوں نے کسی بھی سیاسی جماعت سے وابستگی اختیار نہیں کی۔ وہ درد دل رکھنے والے انسان تھے اور اُنھوں نے اپنی شاعری میں اپنے خطے کے مسائل کو عمدگی کے ساتھ بیان کیا۔ اُنھوں نے کسی سیاسی راہ نما یا سیاسی جماعتوں سے کوئی بھی توقعات وابستہ نہیں کیں۔ وہ انسانیت سے محبت رکھنے والے شخص تھے۔ اُنھوں نے حتی الامکان اپنی زندگی میں کبھی کسی انسان کو تکلیف نہیں دی۔ بلاشبہ وہ ایک بے ضرر انسان تھے۔
سلیم عاقل کا اصل نام محمد سیلم طاہر ڈوگر تھا اور وہ عاقل معصومی تخلص لکھتے تھے۔ آپ ضلع مظفر گڑھ کے قریبی قصبہ سنانواں میں 20 مارچ 2022 ء کو پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام نظام الدین ڈوگر اور دادا کا نام شرف الدین ڈوگر تھا ۔ نظام الدین ڈوگر کو اللہ تعالیٰ نے تین بیٹوں اور تین بیٹیوں سے نوازا۔ ان کے بیٹوں کے نام مہر محمد عاجزی باروی، نیک محمد ناطق اور سیلم عاقل ہیں۔
اسی دوران اُنھوں نے اپنی شاعری کا آغاز کیا، جس سے اُنھیں ایک نیا حلقہ ء احباب میسر آیا اور یوں ان کے شب و روز فکرِ روزگار کے ساتھ ساتھ دوستوں کی محافل اور مشاعروں میں بسر ہونے لگے۔
سلیم عاقل کی شادی حسینہ بی بی سے ہوئی، جس سے ان کا ایک بیٹا عبدالمجید ڈوگر پیدا ہوا۔ عبدالمجید ڈوگر ایل ایل بی کرنے کے بعد وکالت کے پیشے منسلک ہیں۔ سیلم عاقل ایک درویش صفت اور بے ضرر انسان تھے ۔ انھوں نے اپنی زندگی کو سادگی، خلوص اور محبت کی ڈگر پر چلایا۔ اگرچہ وہ زمانے کے اتار و چڑھاؤ سے بخوبی واقف تھے لیکن اُنھوں نے اپنے تعلقات، محبت، مروت اور خلوص کی بنیادوں پر استوار کیے۔
سلیم عاقل ادبی گروہ بندی سے دور رہنے والے شخص تھے۔ ان کی اپنی ایک دنیا تھی، جس میں وہ خوش رہتے تھے۔ وہ مشاعروں اور ادب کے لیے ہونے والی سیاست کا کبھی حصہ نہیں بنے۔ اس کے باوجود اُنھوں نے بھرپور ادبی زندگی گزاری۔ وہ ہمیشہ دوستوں کے ساتھ محافل میں شریک ہوتے۔ اپنا کلام سُناتے اور دوستوں کا کلام سُن کر خوش ہوتے اور داد و تحسین سے نوازتے۔ ان کا ظاہر اور باطن ایک جیسا تھا۔ سیلم عاقل کے حلقہ ء احباب میں سرائیکی وسیب کے نام ور شاعر اور ادیب شامل ہیں۔ جن میں ڈاکٹر خیال امروہوی، شاکر شجاع، مہر محمد عاجزی باروی، نیک محمد ناطق عمران میر، شبیر شرر اور دیگر ادیب شامل تھے۔
سلیم عاقل کی شعری تصانیف میں اُردو شعری مجموعہ عہد وفا جاتا رہا شامل ہے جب کہ ان کا سرائیکی کلام ابھی اشاعت کے مراحل سے گزرا۔ عہدِ وفا جاتا رہا میں اُردو غزلیں، نظمیں، حمد، نعت، ،سلام، منقبت اور قطعات شامل ہیں۔
سلیم عاقل کا شعری مجموعہ عہدِ وفا جاتا رہا، ان کی قلبی واردات کی عکاسی کرتا ہے، گویا اُنھوں نے خود پر بیتنے والی کیفیات کو شعری پیکر میں ڈھال دیا ہے ۔ اس لیے ان کی شاعری میں تصنع اور بناوٹ نظر نہیں آتی۔
سلیم عاقل کی شعری صلاحیتوں کا اعتراف نہ صرف ان کے ہم عصر شعراء نے کیا ہے بلکہ ان کے سینئر کی طرف سے بھی انہیں ہمیشہ سراہا گیا ہے۔ان کا حلقہ ء احباب ان کی شاعری کا متعرف تھا۔ ان کی شاعری قلبی احساسات وجذبات کا عمدہ اظہار ہے۔
سلیم عاقل شوگر کے مرض میں کچھ عرصہ مبتلا رہے ۔شوگر کے گردوں پر اٹیک کی وجہ سے انہیں مظفر گڑھ ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ کئی روز تک زیر علاج رہے، ان کی طبیعت سنبھل نہ سکی اور 7 مئی 2022ء کو خالق حقیقی سے جا ملے۔ یوں ایک خوب صورت شاعر اور ادیب کی زندگی کا سفر اختتام کو پہنچا لیکن وہ اپنی شاعری کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھیں جائیں گے۔
اُنھوں نے اپنی شاعری میں سماجی حالات و واقعات کو موضوع بناتے ہوئے انسانی مسائل کو عمدگی سے پیش کیا۔ سلیم عاقل کی شاعری میں غمِ روزگار کے نشیب و فراز کی پرچھائیاں بھی دکھائی دیتی ہیں اور غمِ جاناں کی جھلکیاں بھی ملتی ہیں۔
مادیت پرستی کے اس عہد میں جہاں انسانی رشتوں اور اخلاقی قدروں کا انحطاط پیدا ہوا ہے، وہیں سماج میں محبت کی جگہ نفرت اور بےحسی نے لے لی ہے۔
سلیم عاقل کا شمار اس سماج کے بیدار مغز افراد میں ہوتا ہے۔ وہ سماج کی اس بے حسی کو نہ صرف محسوس کرتے ہیں بلکہ اس کا اظہار اپنی شاعری میں بھی کرتے ہیں۔ وہ سماج کی بے حسی کو عیاں کرتے ہوئے کہتےہیں :
الفیتیں نایاب ہیں اور نفرتیں ہیں چار سو بے وفائی عام ہے عہد وفا جاتا رہا
سلیم عاقل نے اپنے شعری مجموعہ عہد وفا جاتا رہا کا عنوان بھی درج بالا شعر کے مصرع سے کیا ہے۔ سیلم عاقل نے اس عہد میں وفا کے ختم ہونے کی وجہ انسان کی خود غرضی کو قرار دیا ہے۔ اب زمانے میں صرف وفا کا نام رہ گیا ہے۔ وفا کے متلاشی کے مقدر میں ناکامی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس بات کو سلیم عاقل اپنے اس شعر میں ایک انوکھے انداز سے پیش کرتے ہیں:
دنیا میں وفا کا تو فقط نام ہے باقی
نادان زمانے سے وفا مانگنے نکلا
شاعر فطری طور پر انسان دوستی کا قائل ہوتا ہے۔ دوستی کا رشتہ خلوص اور محبت کی بنیادوں پر استوار ہوتا ہے۔ اس میں جتنا خلوص اور احساس ہوگا، اتنا ہی یہ رشتہ مضبوط ہوگا۔ سیلم عاقل بھی اخلاص اور انسان دوستی کے قائل ہیں۔ اُنھوں نے اپنی غزلوں میں انسان دوستی کو موضوع بناتا ہے۔ وہ مفلس دوستوں سے محبت کا درس دیتے ہیں کیونکہ حقیقت میں وہی لوگ آپ کے ساتھ مخلص ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے یہ شعر ملاحظہ کیجئے:
جو ہے یار مفلس وہی تو ہے مخلص کبھی بھول کر اس سے نفرت نہ کرنا
سلیم عاقل نے اپنی غزل میں معاشرتی و سماجی مسائل، انسانی حقوق اور اخلاقی قدروں کو بھی بیان کیا ہے۔ وہ یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ جس معاشرے میں نظام انصاف درست نہ ہو وہاں پر قانون کی عملداری اور حق کا بول بالا کیسے ہو سکتا ہے اور جس سماج میں قانون کی حکمرانی نہیں ہوگی وہاں پر کسی کی عزت و ناموس کا محفوظ رہنا ممکن نہیں ہوگا ۔ کسی بھی معاشرے میں فرد کی آزادی بہت اہمیت رکھتی ہے لیکن جس سماج میں ہم سانس لے رہے ہیں یہاں پر نام نہاد آزادی کے نام پر جبر اور کھٹن کی فضا قائم ہے۔ سلیم عاقل نے معاشرے کے اس الم ناک پہلو کی طرف اپنی شاعری میں توجہ دلائی ہے۔ وہ آج کل کے حالات کو موضوع بناتے ہوئے کہتےہیں، ہم مجبور اور بے بس قوم کے افراد ہیں جو اگر ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو مار دیے جاتے ہیں۔
محبت کا موضوع اردو غزل کی جان ہے اس موضوع کو ہر شاعر نے اپنے اپنے انداز سے بیان کیا ہے۔ سلیم عاقل نے اپنی غزل میں اس کیفیت کو ایک الگ انداز سے بیان کیا ہے۔ وہ محبت میں فنا ہو جانے کے قائل ہیں۔ محبت کے راستے پر چل کر انسان دکھ اور غم سے آشنا ہوتا ہے ۔ سلیم عاقل نے اس حقیقت سے آشنا ہیں اس لیے وہ محبت کے متلاشیوں کو اس راہ کی مشکلات کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہتےہیں:محبت ایک فطری جذبہ ہے جو حساس دلوں میں پروان چڑھتا ہے۔ اُردو غزل میں محبت کے موضوعات پر سینکڑوں ہزاروں لازوال اشعار ملتے ہیں، جو زدعام ہیں اور محبت کرنے والوں کے دلی جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک عاشق کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا محبوب اسے اور اس کی محبت کو ہمیشہ یاد رکھے۔ جب کہ ان کا محبوب بھی روایتی محبوب کی طرح بے حس نظر آتا ہے اور ان سے دوری اختیار کیے ہوئے ہے، لہذا وہ اپنی خطا تسیلم کرتے ہوئے اپنی دلی کیفیات کا اظہار بھرپور طریقے سے کرتے ہیں ۔ ان کے یہ اشعار دیکھیے:
میرے پیار کو تم سدا یاد رکھنا اسے دل میں اے دلربا یاد رکھنا کیا پیار میں نے میرا جرم ہے یہ یہی اک خطا ہے خطا یاد رکھنا
سلیم عاقل کے ہاں عشق و محبت کے جذبات پوری آب وتاب کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ ان کا دل محبت کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ سلیم عاقل کے ہاں ہجر اور جدائی کی کیفیات مختلف اور منفرد انداز میں جلوہ گر ہوتی ہیں ۔ جب سے محبوب ان سے جدا ہوا ہے تب سے ان کی زندگی میں کوئی خوشی باقی نہیں رہی۔
جب سے بچھڑا ہے وہ صنم عاقل اچھی لگتی نہیں خوشی اب تو
انسانی زندگی مشکلات اور جہد مسلسل سے عبارت ہے۔ زندگی کا سفر بہت مشکل اور کٹھن ہوتا ہے۔ بعض اوقات انسان ان مسائل اور پریشانیوں سے گھبرا کر زندگی جیسی نعمت سے ہی ناامید اور مایوس ہوجاتا ہے ۔ پھر ایک مقام ایسا آتا ہے کہ جب انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ مثبت سوچ کے ساتھ ان تمام مشکلات سے نکل کر اپنی زندگی کو بہتری کی طرف لے جاسکتا ہے۔ آج کے انسان کی بے بسی کا اظہار اپنے ایک اور شعر میں سلیم عاقل یوں کرتے ہیں:
میرے ہونٹوں پہ تالے ہیں مجھے خاموش رہنا ہے اگر شکوہ کروں کوئی تو عاقل یہ گلہ ہوگا
سلیم عاقل کی غزلوں میں بھی حمدیہ اشعار ملتے ہیں جن میں وہ ذات باری تعالٰی کے کرم اور رحمت کے طلب گار دکھائی دیتے ہیں۔ سلیم عاقل بھی اسی در کے سائل ہیں اور وہ اپنی پریشانیوں اور مسائل اسی ذات سے مدد کے طلبگار ہیں ۔ ان کے حمدیہ اشعار دیکھئے:
خدا سے میں ہر دم دعا مانگتا ہوں نہیں مجھ کو معلوم کیا مانگتا ہوں میرے دل پہ ظلمت کے بادل ہیں چھائے تیری رحمتوں کی ضیاء مانگتا ہوں
سلیم عاقل نے اپنی شاعری میں سیاسی و سماجی حالات اور حکمرانوں کے رویوں کو بھی موضوع بنایا ہے۔ سلیم عاقل نے بڑے لطیف انداز میں سیاسی نظام ، حکمرانوں اور طاقت ور طبقات پر طنز کے نشتر چلائے ہیں ۔ اس حوالے سے اشعار دیکھئے:
آ گئی ہے لبوں پہ جاں اپنی اور خاموش ہے زباں اپنی شہر کے حکمراں تو بہرے ہیں کیسے حالت کروں بیاں اپنی
سلیم عاقل کے بہت سے ایسے اشعار ہیں جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ قاری ان کے اشعار پڑھتے ہوئے محض گزر نہیں جاتا بلکہ ان کی فکری سوچ کو سمجھنے کی کوشش کرتاہے۔ سیلم عاقل نے مختلف عناصر کے ذریعے اپنی غزل کے اسلوب کو تشکیل دیا ہے، جس میں موضوع، ماحول، مخاطب اور مقصد شامل ہیں ۔ وہ اپنے خطے اور ماحول سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس بات کا اظہار ان کی شاعری میں جگہ جگہ دکھائی دیتا ہے۔ سلیم عاقل نے اپنی شاعری میں تخیل کو بھی اہمیت دی ہے۔



