آج کے کالمزکالمز

جھوٹ کا دوسرا نام: سوشل میڈیا

عصرِ حاضر کی دنیا کو اگر ڈیجیٹل گاؤں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ آج ہر انسان کے ہاتھ میں موبائل فون ہے، ہر لمحہ انٹرنیٹ سے جڑا ہوا ہے اور ہر لمحہ اس کی نظریں کسی نہ کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جمی رہتی ہیں۔ فیس بک، ٹوئٹر (ایکس)، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، یوٹیوب اور واٹس ایپ جیسے پلیٹ فارمز نے پوری دنیا کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے۔ بظاہر یہ سہولت علم، آگاہی، تفریح اور رابطے کا ذریعہ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے سائے میں ایک زہر بھی پروان چڑھ رہا ہے، اور وہ ہے جھوٹ۔

جھوٹ کی بنیاد پر معاشرے بکھرتے ہیں، رشتے ٹوٹتے ہیں اور قومیں کمزور ہوتی ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جس قدر جھوٹ کا سیلاب آج سوشل میڈیا پر بہہ رہا ہے، اس کی مثال ماضی کی انسانی تاریخ میں شاید ہی ملے۔ یہی وجہ ہے کہ آج لوگ بجا طور پر یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ "جھوٹ کا دوسرا نام سوشل میڈیا ہے۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آخر سوشل میڈیا پر جھوٹ اتنی تیزی سے کیوں پھیلتا ہے؟

ہر انسان چاہتا ہے کہ لوگ اسے دیکھیں، سنیں اور اس کی پوسٹ کو لائک اور شیئر کریں۔ یہی خواہش بعض اوقات انسان کو مجبور کرتی ہے کہ وہ جھوٹی کہانیاں گھڑ لے، فرضی خبریں پھیلائے یا کسی واقعے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرے تاکہ اس کے فالوورز کی تعداد بڑھے۔

سوشل میڈیا اب سیاسی جنگ کا سب سے بڑا میدان ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے مخالفین کو بدنام کرنے کے لیے جھوٹی خبریں پھیلانے کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ جھوٹے بیانات، ایڈٹ شدہ ویڈیوز اور جعلی سروے عام کیے جاتے ہیں تاکہ عوام کے ذہنوں کو گمراہ کیا جا سکے۔

کئی لوگ جھوٹ کا سہارا محض پیسہ کمانے کے لیے لیتے ہیں۔ یوٹیوب پر جھوٹی بریکنگ نیوز بنا کر، فیس بک پر فرضی پیجز چلا کر اور ٹک ٹاک پر جعلی ویڈیوز بنا کر وہ لاکھوں ویوز اور اشتہارات کی آمدنی حاصل کرتے ہیں۔

کچھ لوگ دوسروں کو نیچا دکھانے یا خود کو بڑا ظاہر کرنے کے لیے جھوٹ بولتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر یہ عمل اور بھی آسان ہے کیونکہ وہاں اصل پہچان چھپائی جا سکتی ہے۔

سوشل میڈیا کے جھوٹ کے اثرات صرف ایک فرد یا خاندان تک محدود نہیں رہتے، بلکہ عالمی سیاست، معیشت اور معاشرت پر بھی پڑتے ہیں۔

کئی ممالک میں سوشل میڈیا پروپیگنڈے نے انتخابات کے نتائج پر اثر ڈالا ہے۔ کسی ملک کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کر کے نفرت اور جنگ کے بیج بوئے جاتے ہیں۔

کرونا وائرس کے دنوں میں جھوٹی معلومات نے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا۔ جعلی علاج، جھوٹے ٹوٹکے اور گمراہ کن خبریں کئی جانوں کے ضیاع کا سبب بنیں۔

پاکستان میں سوشل میڈیا کا جھوٹ اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ سیاسی کارکن ایک دوسرے پر کرپشن، غداری اور سازشوں کے الزامات لگاتے ہیں۔ مذہبی معاملات میں فتویٰ بازی اور گمراہ کن بیانات عام ہیں۔ مشہور شخصیات کے خلاف جھوٹے سکینڈلز بنا کر ان کی عزتیں اچھالی جاتی ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ان سب میں لاکھوں لوگ بغیر تحقیق کے جھوٹی پوسٹ کو آگے بڑھا دیتے ہیں۔

اسلام میں جھوٹ کو کبیرہ گناہ قرار دیا گیا ہے۔ قرآن کہتا ہے: "بے شک اللہ جھوٹوں کو ہدایت نہیں دیتا۔” (النحل: 105)

حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: "منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بولے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، اور جب امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔”

جب جھوٹ کو دین نے اس قدر سختی سے منع کیا ہے تو کیا یہ جائز ہے کہ ہم روزانہ جھوٹ کو اپنی انگلیوں سے ٹائپ کر کے دنیا بھر میں پھیلاتے رہیں؟

سوشل میڈیا پر جھوٹ کا مطلب صرف غلط خبر دینا نہیں ہے، بلکہ یہ کئی صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے:

فرضی ناموں سے جعلی اکاؤنٹ بنانا, کسی اور کی تصویر یا ویڈیو کو غلط سیاق و سباق میں استعمال کرنا, ایڈٹ شدہ ویڈیوز کے ذریعے دوسروں کی کردار کشی, جھوٹی تعریف یا جھوٹی بدگمانی پھیلانا, مذہبی یا لسانی تعصب کی آگ بھڑکانے کے لیے جھوٹا مواد, یہ سب اخلاقی بحران کی نشانیاں ہیں، جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ وہ جھوٹی خبروں پر یقین کر کے ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ کبھی وہ کسی شخصیت کو ہیرو سمجھ لیتے ہیں اور کبھی کسی کو ولن۔ جھوٹی شہرت اور لائکس کی دوڑ نے کئی نوجوانوں کو جرم کی راہ پر بھی ڈال دیا ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ سوشل میڈیا معاشرے کو بگاڑنے کے بجائے سنوارنے کا ذریعہ بنے تو ہمیں چند اقدامات کرنے ہوں گے:

ہر خبر یا ویڈیو کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی سچائی جانچیں, قانون سازی: حکومت کو سوشل میڈیا پر جھوٹ پھیلانے والوں کے خلاف سخت قوانین نافذ کرنے چاہئیں, تعلیمی نصاب میں آگاہی: طلبہ کو سکھایا جائے کہ جھوٹ اور پروپیگنڈے کو کیسے پہچانا جا سکتا ہے۔

سماجی ذمہ داری: سوشل میڈیا استعمال کرنے والے ہر فرد کو اپنے کردار کا احساس ہونا چاہیے۔ علمائے کرام اور دانشوروں کا کردار: وہ عوام کو بار بار جھوٹ کے نقصانات سے آگاہ کریں۔

سوشل میڈیا اگرچہ ایک طاقتور ذریعہ ہے، لیکن یہ طاقت خیر اور شر دونوں کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔ اگر اس پر سچائی، دیانت اور تحقیق کو فروغ دیا جائے تو یہ معاشرے کے لیے رحمت ہے۔ لیکن اگر جھوٹ کو اس کا زیور سمجھ لیا جائے تو پھر یہ تباہی اور بربادی کا ہتھیار بن جاتا ہے۔

یقیناً آج ہمیں اجتماعی طور پر فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم کس طرف جانا چاہتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں سچائی اور اعتماد کے ماحول میں پروان چڑھیں، تو ہمیں جھوٹ کے سیلاب کو روکنا ہوگا۔ ورنہ تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button