تھانہ مانگل سٹاف کی جانب سے تین نوجوانوں کو ذاتی و سیاسی دشمنوں کی ایماء پر حبس بے جاء میں رکھے جانے اور شدید تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا الزام
مانسہرہ(بیورورپورٹ) تھانہ مانگل سٹاف کی جانب سے تین نوجوانوں کو ذاتی و سیاسی دشمنوں کی ایماء پر حبس بے جاء میں رکھے جانے اور شدید تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا الزام. ورثاء حصول انصاف و قانونی تحفظ کے لئے عدالت میں پہنچ گئے. 22/A کے تحت برآمدگی کے لئے مقامی عدالت میں درخواست دائر کردی. نوجوانوں کو پولیس مقابلے میں مارے جانے کا خدشہ ظاہر کردیا. عدلیہ سمیت متعلقہ ذمہ دار اداروں اور پولیس حکام سے فوری انکوائری اور کاروائ کا مطالبہ. تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز مسماۃ نسیم بی بی بیوہ الطاف مرحوم، اور شبیر احمد ولد عبدلعزیز سکنہ لودنا بانڈی ڈھونڈاں مانگل ایبٹ آباد نے مقامی عدالت میں 22/A کے تحت درخواست جمع کرانے کے بعد میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ چند روز قبل دو نوجوانوں منیر احمد ولد عبدالعزیز اور اس کے بھانجے احتشام ولد صدیق احمد سکنہ لودنا ڈھونڈاں بانڈی مانگل ایبٹ آباد کو بغیر کسی جرم کے صرف ذاتی و سیاسی عناد کی بناء پر سلمان ولد حیدر زمان کی ایماء پر ایس ایچ او تھانہ مانگل شکیل خان نے مبینہ بھاری ایزی لوڈ کے عوض بغیر کسی جرم کے دوسرے ضلع مانسہرہ کی حدود ذاکر خان کے بھینسوں کے باڑے سے مزدوری کرتے ہوئے بغیر وارنٹ اٹھا لیا. دوسری جانب مقامی ایک اور یتیم نوجوان محمد شاہد ولد محمد الطاف سکنہ لودنا ڈھونڈاں بانڈی مانگل ایبٹ آباد کو بھی اسی طرح بغیر وارنٹ اٹھا لیا. اور کہا کہ تم منیر احمد اور احتشام پر جھوٹی گواہی دو کہ انہوں نے سلمان کی گاڑی چوری کی ہے. تاکہ ہم ان پر پرچہ فٹ کر کے اپنی عداوت کا بدلہ لے سکیں. بصورت دیگر تمہیں بھی اس کیس میں ڈال دیں گے. اور اس دوران گزشتہ کئی دنوں سے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے. نہ ہی ورثاء کو ملنے دیا جا رہا ے اور نہ ہی منظر عام پر لایا جا رہا ہے. اور حبس بے جاء میں رکھ کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے. سلمان ولد حیدر زمان مقامی چئیرمین گلزار ولد میاں داد، اظہر اور تنویر شاہ ولد منظور شاہ کی ایماء پر ایس ایچ او تھانہ مانگل شکیل خان مکمل طور پر مبینہ ایزی لوڈ کے عوض پارٹی کا کردار ادا کر رہا ہے. حبس بے جاء میں رکھے گئے تین بے گناہ نوجوانوں کے ورثاء نے کہا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ با اثر مافیا کی ایماء پر ہمارے یتیم بے گناہ نوجوانوں کو پولیس مقابلے میں نہ مار دیا جائے. اور اسی حوالے سے ہمیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں. انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں یا ہمارے حبس بے جاء میں رکھے گئے تین نوجوانوں کو کسی قسم کا کوئی بھی نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری سلمان ولد حیدر زمان اور ایس ایچ او تھانہ مانگل شکیل خان سمیت دیگر سہولت کاروں پر عائد ہو گی. متاثرہ افراد نے عدلیہ سمیت اعلیٰ پولیس حکام آئ جی کے پی کے، ڈی آئی جی ہزارہ سیمت دونوں اضلاع مانسہرہ و ایبٹ آباد کے ڈی پی اوز و متعلقہ تحقیقاتی اداروں سے مطالبہ کیا ھےکہ مذکورہ واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے اصل حقائق سامنے لائے جائیں اور مرتکب نامزد افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کر کے ہمیں انصاف اور تحفظ فراہم کیا جائے اور ہمارے مظلوم بے گناء یتیم بچوں کو منظر عام پر لایا جائے.


