قومی

تعلیمی نظام کی مضبوطی، شفافیت اور معیار میں بہتری حکومت کی اولین ترجیح ہے: وجیہہ قمر

ڈیجیٹل اصلاحات، اے آئی پر مبنی نظام اور “مکتب” پلیٹ فارم تعلیمی شعبے میں گیم چینجر ثابت ہوں گے

وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے کہا ہے کہ تعلیمی نظام کی مضبوطی، شفافیت اور معیار میں بہتری حکومت کی اولین ترجیح رہی ہے اور وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی واضح ہدایات کے مطابق نظام کو مضبوط بنائے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو پی آئی ڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وجیہہ قمر نے کہا کہ حکومت نے ادارہ جاتی اصلاحات کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں مثبت اور دیرپا نتائج کے لیے وقت درکار ہوتا ہے کیونکہ نسلوں کی تعمیر ایک مسلسل عمل ہے، تاہم حکومت نے آغاز ہی سے ڈیجیٹل اصلاحات کے ذریعے شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنایا ہے۔

وزیرِ مملکت نے بتایا کہ وزارتِ تعلیم کے بیشتر امور کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر منتقل کر دیا گیا ہے جس سے پراسیسنگ، ٹریکنگ اور احتساب کے نظام میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ ٹینڈرز کی جانچ پڑتال بھی ڈیجیٹل طریقے سے کی جا رہی ہے جو شفافیت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزارتوں میں ای پیڈز متعارف کروائے گئے ہیں تاکہ فیصلہ سازی میں ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دیا جا سکے اور عوامی اعتماد کو مضبوط بنایا جا سکے۔

وجیہہ قمر نے کہا کہ فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن، فیڈرل بورڈ اور ہائر ایجوکیشن کمیشن نے باہمی اشتراک سے تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ایف ڈی ای میں ڈیجیٹل پورٹلز کے ذریعے مانیٹرنگ کا مؤثر نظام قائم کیا گیا ہے جبکہ اے آئی پر مبنی پورٹل تکمیل کے مراحل میں ہے تاکہ فیصلے ڈیٹا اور حقائق کی بنیاد پر کیے جا سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ طلبہ اور والدین کی شکایات کے اندراج اور فوری ازالے کے لیے مکمل میکنزم موجود ہے۔ تعلیمی نظام میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کا فیصلہ کیا گیا ہے اور تمام تعلیمی ڈیٹا کو محفوظ رکھنے پر کام جاری ہے۔ اس ضمن میں ایچ ای سی کے تحت “مکتب” کے نام سے ایک جامع ڈیجیٹل سسٹم متعارف کروایا گیا ہے جس کا افتتاح کیا جا چکا ہے۔ پہلے مرحلے میں 25 پبلک یونیورسٹیز میں اس کا آغاز کیا جا رہا ہے جبکہ مستقبل میں اسے تمام پبلک یونیورسٹیز تک توسیع دی جائے گی۔

وزیرِ مملکت نے کہا کہ مکتب سسٹم کے تحت ہر طالب علم کا داخلے سے ڈگری کے اجرا تک مکمل تعلیمی ریکارڈ، گریڈز اور ٹرانسکرپٹس ایک ہی پلیٹ فارم پر دستیاب ہوں گے۔ اس نظام سے شفافیت میں اضافہ، وقت کی بچت اور پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ میں بہتری آئے گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایف ڈی ای میں بی ایس پروگرام کے لیے مرکزی ای پورٹل متعارف کروایا گیا ہے جبکہ آئی بی سی سی میں بھی آن لائن سسٹم نافذ کیا گیا ہے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر خصوصی بچوں کے لیے اقدامات، سینٹر آف ایکسیلینس فار آٹزم اور ای کچہریوں کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button