آج کے کالمزکالمز

بجلی کی قیمتوں میں کمی۔ کینال نہ بننے دینے اور احتجاج کا اعلان۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عشرت العباد خان کی تجاویز اور ویژن کی جیت۔۔۔۔کیا اسمبلیاں خطرے میں ہیں؟؟؟؟؟


حکومت نے بجلی کی قیمتوں پر کمی کا کیا اعلان کیا۔ ملک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ہر سیاسی جماعت بشمول مخالف سیاسی جماعتوں کے سب نے اس پر مسرت کا اعلان کیا۔ یہ سہولت ابتدائی مرحلے میں تین ماہ کے لئے ہے جسکے بعد پٹرول کی قیمتوں میں استحکام رکھ کر بجلی کی قیمتوں میں کمی کا تسلسل برقرار رکھنے کے دعوی بھی کئے جا رہے ہیں۔دوسری جانب سندھ میں نئی نہریں نکالے جانے کے پنجاب کے فیصلے اور آصف علی زرداری کی جانب سے اسٹیک ہولڈرز کے منظوری کے دعوی اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر زرداری کا اس سے انکار، قوم پرستوں کا سندھ میں پیپلز پارٹی کے خلاف احتجاج اور پیپلز پارٹی کے فیصلے میں شامل ہونے کے دعووں پر زوردار مہم چل رہی ہے۔ بلاول بھٹو نے احتجاج اور کینالوں کا مسئلہ حل نہ ہونے کی صورت میں بجٹ پر ووٹ نہ کرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔ جبکہ مسلم لیگ ن کا رویہ مصالحانہ ہے۔ بلوچستان اور کے پی کے حالات دگرگوں ہیں۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کی عدم شرکت، وزیر اعلی کے پی کے کا بانی سے ملاقات کے بعد جارحانہ رویہ بھی سامنے آیا ہے۔ مجموعی طور پر ملک کی سیاسی اور دہشت گردی کے حوالے سے صورتحال نا مناسب ہے۔ بجلی کی کمی کا کریڈٹ جماعت اسلامی سمیت پی ٹی آئی اور دیگر بی لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے ایک سال پہلے بہت سے معاملات پر لب کشائی کی تھی اور تجاویز بھی دی تھیں۔ جس میں بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے تجاویز، گڈ گورننس، نیشنل ایکشن پلان، اپیکس کمیٹیوں کے اجلاس اور ملکی معیشت کی بحالی اور ترقی کے لئے جو تجاویز دی تھیں وہ عمل درآمد کی صورت میں بھی نظر آئیں۔16مارچ 2025کو کراچی پریس کلب پر ڈاکٹر عشرت العباد کے مطالبات کے بعد قومی سلامتی کا اجلاس بھی منعقد ہوا۔ اسوقت اچانک اسٹبلشمنٹ کے ساتھ پی ٹی آئی کے مزاکرات کی باتوں نے بہتری کا اشارہ دیا ہے۔ تاہم سوشل میڈیا اور ٹوئٹ اسوقت بھی مناسب طرز عمل کا اشارہ نہیں دے رہے۔ اس لئے غیر یقینی کی کیفیت ہے۔ جعفر ایکسپریس کے واقعہ کے بعد بھی گاڑیوں سے اتار کر شناختی کارڈ دیکھ کر قتل کے واقعات نے بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے عوام ان دہشت گردوں اور کے پی کے کے خوارجیوں سے نجات چاہتے ہیں۔ سابق گورنر سندھ کے تجربات اور ریاست کے لئے موقف کی عوام بھی تائید کر رہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ انکی تجاویز اور ریاست کے لئے بہترین سوچ رکھنے والوں کی پزیرائی کی جائے۔ انکے ویژن کی جیت ہوئی ہے۔ گڈ ورننس ہی مسائل کاحل ہے۔ اگر مثبت فیصلے نہ کئے گئے اور ریاست پر سیاست کو فوقیت دی گئی تو اسمبلیاں بھی خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ جس میں بجٹ کی نا منظوری سمیت متعدد معاملات ہیں جو اسمبلی کی عمر کم کرسکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست پہلے سیاست بعد میں کے ڈاکٹر عشرت العباد کے نعرے کو اپنایا جائے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button