قومی

بانی ایم کیو ایم کا پہلا پولیٹیکل سیکریٹری بنا تو ندیم نصرت نے پاؤں پکڑ لئے مجھے بننے دو پہلی بار حکم عدولی کی

کراچی (اسٹاف رپورٹر /وقائع نگار) مہاجر سیاست کی تربیت آفاق احمد نے دی پہلا کالم المہاجر میں سرسید احمد خان پر لکھا۔ بانی ایم کیو ایم کا پہلا پولیٹیکل سیکریٹری بنا تو ندیم نصرت نے پاؤں پکڑ لئے مجھے بننے دو پہلی بار حکم عدولی کی۔ جاوید اختر کے بعد دوسرا جامعہ کراچی کا APMSOکا آرگنائزر بنا۔ اسکے بعد طارق مہاجر مجھے مرکز لے آئے۔ الکرم اسکوائر کی چھٹی منزل پر جسکا فون نمبر 674302تھا اسکا انچارج بنا۔ ڈاکٹر عمران فاروق میرے باس تھے۔ رسالے جمہور میں الکرم اسکوائر سے کبیر پیرزادہ نے جب پہلی بار بانی کا انٹرویو شائع کیا تو کارکنان کی مسرت قابل دید تھی۔ 1986کے نشتر پارک کے جلسے نے قسمت بدلی۔ 1987میں بلدیاتی الیکشن جیت گئے۔ 89مرکز جسکا نمبر 689989تھا انچارج رہا۔ APMSOکا نشرو اشاعت رہا۔ شارق الیاس کو جوائنٹ انچارج کراچی بنایا۔ ندیم احمد کے ساتھ۔ پارٹی گرومنگ میں سید امین الحق کا بڑا ہاتھ تھا۔ خالد بن ولید نے بڑا رول ادا کیا۔ جامعہ کراچی جہاں سے APMSOختم ہوچکی تھی۔ اسے دوبارہ زندہ کیا۔ اسوقت مرکزی قیادت طارق جاوید، زرین مجید، امین الحق، نسرین ستار، ریحان عمر فاروقی، متین یوسف، ایس ایم طارق، طارق مہاجر، شیخ جاوید ساتھ تھے۔ جبکہ خواتین میں عزرا تسنیم، نفیس فاطمہ جیسی مدبر خواتین تھیں۔ میرا امریکہ سے آرگنائزر بنانے کا اعلان کیا گیا۔ ندیم نصرت اور مصطفی عزیز آبادی کو لانے والا بھی میں ہی تھا۔ مہاجر قومی موومنٹ بنی تو پریس سیکریٹری کی ذمہ داری ملی۔ 1992میں آنے والے کرائسس کے بعد گیپ آگیا۔ لیکن سفر جاری رہا۔ ان خیالات کا اظہار رضوان احمد فکری نے خصوصی انٹرویو میں کیا۔ ایم کیو ایم کی خصوصیت بیان کی کہ وہ واحد متوسط طبقہ کی جماعت ہے۔ صحافی کے سوال کے جواب میں کہا کہ غلط لوگ چلے گئے واپسی ہوسکتی ہے۔ ہوئی نہیں۔ نہ زیر غور ہے۔ہم اتنے گئے گزرے بھی نہیں کہ کسی سے درخواست کریں۔ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مشورے سے فیصلہ لے لیا ہے۔ ایم کیو ایم میں ایک سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اور مرحوم ڈپٹی کنوینر نے ہمیں استعمال کرکے پارٹی میں ہماری پوزیشن خراب کی۔ کچھ لوگ میڈیا ٹرائل کرتے رہے۔ لیکن پارٹی میں جہاں ہماری عزت ہوگی اہمیت ہوگی وہیں ہمارے لوگ جائیں گے۔ تازہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کراچی کا نوجوان برباد ہورہا ہے۔ Nepotismنے سب کو برباد کردیا ہے۔ پرانی تاریخوں میں بھرتیاں کرکے غیر مقامی لوگ لائے جا رہے ہیں۔ ایم کیو ایم نے دو فاش غلطیاں کیں یا کرائی گئیں۔ 2001اور2023کے الیکشن کا بائیکاٹ مہاجروں کو دیوار سے لگارہا ہے۔ 2001میں چند سو ووٹ لے کر بننے والی سٹی گورنمنٹ نے کراچی کی اصل خدمت کی اگر مہاجر قومی موومنٹ بھی بائیکاٹ نہ کرتی تو وہ کراچی پر راج کرتی لیکن انکی فاش غلطی نے انہیں بیت الحمزہ سے لے کر سیاست تک سب میں محدود کردیا۔ مصطفی کمال کامیاب اور جدت پسند سٹی ناظم تھے۔ اگر وہ 2001سے ہوتے تو کراچی پیرس بن چکا ہوتا۔ ڈاکٹر سلیم حیدر بانیوں میں سے ہیں جب وہ یونٹ انچارج سندھ میڈیکل کالج تھے تو ڈاکٹر فاروق ستار اور ڈاکٹر عمران فاروق، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، رفیق عیسانی سب وہیں تھے۔ شمعون ابرار آج بھی غلط راستوں پر ہیں۔ انہیں آفاق احمد یا سلیم حیدر یا ایم کیو ایم کے ساتھ ہونا چاہئے۔ عظیم احمد طارق نے جب بانی حیدر آباد 31اکتوبر 1986کو گرفتار ہوئے۔ ایک ہینڈ بل شہادتوں پر ”وہ تو آگ اور خون کے دریا اتر گئے“شائع کیا جو جامعہ کراچی میں اور آفاق احمد، عامر خان، Mujtubaخان، عبدالرشید، عبدالحفیظ صدیقی، نے زونوں میں تقسیم کیا۔ امین الحق جامعہ میں ساتھ تھے جو ہمیشہ ورکرز کا حوصلہ بڑھاتے تھے۔ آرٹس آڈیٹوریم کا جلسہ سنگ میل تھا۔ چائے کی پیالی پر بننے والی اس جماعت کو آج صرف احمد سلیم صدیقی، امین الحق، خالد مقبول ہی لمحہ بہ لمحہ بیان کرسکتے ہیں۔ یہ سب اس لئے بتا رہا ہوں کہ آج اچھے وقت میں پرانے نظریاتی محب وطن مہاجر آج کے سوشل میڈیا کے بدکردار لوگوں کی نظر میں کچھ بھی نہیں۔ سلیم شہزاد کے ساتھ برا کیا گیا اس سول کے جواب میں کہ کیاآپ عشرت العباد کی جماعت میں شامل ہو رہے ہیں انہوں نے کہاکہ ہرگز نہیں۔ ایم کیو ایم میں کہا کہ قبل ازوقت ہے۔ کراچی نوجوان تحریک کی حمایت کیوں کر رہے ہیں کہا کہ نوجوانوں کو پی ٹی آئی غلط استعمال کر رہی ہے۔ اگر کوئی نوجوانوں کو درست راستے پر لا رہا ہے تو ہیرو ہے۔ فیضان حسین بہترین لیڈر ہیں کاشف اور دیگر ایک اچھی ٹیم ہیں۔۔انکی سوچ اچھی ہے۔ اگر یہ کچھ بہتر کرلیتے ہیں تو اس میں کوئی ہرج نہیں۔ (انٹرویو کا دوسرا حصہ کل جاری کیا جائے گا

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button