عالمی

ایرانی کرنسی کا زوال، مہنگائی کا طوفان، عالمی کشیدگی میں اضافہ کیا دنیا تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے؟

ریال کی بے قدری، مہنگائی کا طوفان، مشرقِ وسطیٰ میں جنگی بادل، عالمی طاقتوں کی آمنے سامنے صف بندی

ایران اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے جہاں قومی کرنسی ریال کی قدر میں غیر معمولی کمی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ حالیہ مہینوں میں ایرانی ریال مسلسل زوال پذیر رہا ہے جس کے نتیجے میں مہنگائی آسمان سے باتیں کرنے لگی ہے، اشیائے خوردونوش عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں اور عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔

 

ماہرینِ معیشت کے مطابق ایرانی کرنسی کے انہدام کی بنیادی وجوہات میں عالمی پابندیاں، تیل کی برآمدات میں رکاوٹیں، بین الاقوامی بینکنگ نظام سے کٹاؤ، داخلی سیاسی دباؤ اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی شامل ہیں۔ ریال کی گرتی ہوئی قدر نے نہ صرف ایرانی معیشت کو کمزور کیا ہے بلکہ خطے میں سیاسی عدم استحکام کو بھی مزید ہوا دی ہے۔

 

ایران میں کاروباری طبقہ شدید دباؤ کا شکار ہے، صنعتیں بند ہو رہی ہیں جبکہ نوجوانوں میں بے روزگاری خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ ایرانی عوام سڑکوں پر نکل کر حکومت سے ریلیف کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن حالات سنبھلتے دکھائی نہیں دے رہے۔ معاشی بحران نے حکومت کی پالیسیوں پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

 

دوسری جانب عالمی سطح پر حالات تیزی سے بگڑ رہے ہیں۔ ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر عروج پر ہے۔ اسرائیل، امریکہ اور ان کے اتحادیوں کی جانب سے سخت بیانات، فوجی مشقیں اور خطے میں اسلحے کی نقل و حرکت نے دنیا بھر میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی بڑے تصادم کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران کی معاشی صورتحال مزید خراب ہوتی ہے تو یہ خطے میں ایک بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ ایران پہلے ہی مختلف علاقائی تنازعات میں فریق ہے اور معاشی کمزوری اسے غیر متوقع فیصلوں کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ یہی وہ صورتحال ہے جسے بعض عالمی مبصرین تیسری عالمی جنگ کے ابتدائی آثار قرار دے رہے ہیں۔

 

روس، چین، امریکہ اور یورپی طاقتوں کی جانب سے مختلف محاذوں پر بڑھتی ہوئی محاذ آرائی بھی عالمی جنگ کے خدشات کو تقویت دے رہی ہے۔ یوکرین، غزہ، بحیرہ جنوبی چین اور اب ایران، دنیا بیک وقت کئی خطرناک تنازعات کا سامنا کر رہی ہے۔ عالمی معیشت پہلے ہی دباؤ میں ہے اور کسی بڑی جنگ کی صورت میں صورتحال مزید تباہ کن ہو سکتی ہے۔

 

ایرانی ریال کی گرتی ہوئی قدر عالمی منڈیوں پر بھی اثر ڈال رہی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، کرنسی مارکیٹس میں بے یقینی اور سرمایہ کاروں کا خوف اس بات کی علامت ہے کہ دنیا ایک غیر مستحکم دور میں داخل ہو چکی ہے۔ اگر عالمی طاقتیں سفارت کاری کے ذریعے معاملات حل کرنے میں ناکام رہیں تو نتائج پوری انسانیت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

 

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں عالمی برادری کو ہوش مندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اقتصادی پابندیوں کے ساتھ ساتھ سیاسی مکالمہ ہی واحد راستہ ہے جس سے جنگ کے خطرے کو ٹالا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر ایرانی کرنسی کا بحران صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ عالمی سطح پر ایک بڑے تصادم کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

 

عوامی سطح پر خوف و ہراس بڑھتا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا پر تیسری عالمی جنگ کے خدشات پر بحث شدت اختیار کر چکی ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ دنیا اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک غلط فیصلہ پوری دنیا کو آگ میں جھونک سکتا ہے۔ آنے والے دن فیصلہ کن ثابت ہوں گے کہ آیا عالمی طاقتیں تصادم کا راستہ اختیار کرتی ہیں یا امن کی طرف قدم بڑھاتی ہیں۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button