جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی سندھ ہائی کورٹ میں اضافی ججز کی توثیق کی سفارش
آئینی بینچز کی تشکیلِ نو اور مدت میں توسیع، 10 اضافی ججز کی مستقل تقرری کی منظوری

جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے سندھ ہائی کورٹ میں اضافی ججز کی بطور مستقل ججز توثیق، آئینی بینچز کی تشکیلِ نو اور ان کی مدت میں توسیع سے متعلق اہم سفارشات منظور کر لیں۔
جوڈیشل کمیشن کا اجلاس منگل کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا جس کی صدارت چیف جسٹس آف پاکستان نے بطور چیئرمین کی۔ اجلاس میں سندھ ہائی کورٹ کے اضافی ججز کی کارکردگی، عدالتی تجربے، سروس ریکارڈ اور دستیاب مواد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
کمیشن نے اکثریتی رائے سے سندھ ہائی کورٹ کے 10 اضافی ججز کی بطور مستقل ججز توثیق کی سفارش کی۔ جن ججز کی توثیق کی گئی ان میں جسٹس میران محمد شاہ، جسٹس تسنیم سلطانہ، جسٹس ریاض علی سہار، جسٹس محمد حسن (اکبر)، جسٹس عبد الحمید بھُرگری، جسٹس جان علی جونیجو، جسٹس نثار احمد بھنبھرو، جسٹس علی حیدر ‘آدا’، جسٹس محمد عثمان علی ہادی اور جسٹس محمد جعفر رضا شامل ہیں۔
اجلاس کے دوران سندھ ہائی کورٹ کے دو اضافی ججز جسٹس خالد حسین شاہانی اور جسٹس سید فیاض الحسن شاہ کی مدت میں چھ ماہ کی توسیع کی بھی منظوری دی گئی۔
جوڈیشل کمیشن نے اسی اجلاس میں آئینی بینچز سے متعلق بھی اہم فیصلے کیے۔ کمیشن نے اکثریتی رائے سے آئینی بینچز کی مدت میں مزید چھ ماہ کی توسیع کی سفارش کی جبکہ سندھ ہائی کورٹ کے چار ججز کو آئینی بینچز کے لیے نامزد کیا گیا۔
آئینی بینچز کے لیے نامزد کیے گئے ججز میں جسٹس امجد علی بوہیو، جسٹس کے دیگر نام شامل ہیں، جن کا مقصد آئینی معاملات میں عدالتی استعداد کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے یہ فیصلے سندھ ہائی کورٹ میں عدالتی امور کی بہتری، مقدمات کے بروقت فیصلے اور آئینی معاملات میں تسلسل کے لیے اہم پیش رفت قرار دیے جا رہے ہیں۔
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی جانب سے کیے گئے یہ اقدامات عدلیہ کے ادارہ جاتی استحکام اور شفاف تقرری کے عمل کی عکاسی کرتے ہیں۔



