ایبٹ آباد کی VC کہو شرقی کربلا کا منتظر پیش کرنے لگی۔ عوامِ علاقہ پانی کی بوند بوند کو ترس گئے۔
علاقائی پانی کی کمیٹی مکمل ناکام، بااختیار کمیٹی کے قیام کا پُرزور مطالبہ

رپورٹ ویلیج کونسل کہو شرقی ایبٹ آباد میں پانی کا سنگین بحران شدت اختیار کر چکا ہے، مگر علاقائی منتخب نمائندے، چیئرمین، اور پانی کے مسئلے کے لیے بنائی گئی کمیٹی بدترین خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ پینے کا صاف پانی کہیں پر بھی میسر نہیں، جس سے شہری شدید اذیت اور مایوسی کا شکار ہیں۔ اس پر سماجی رہنما عمران عباسی نے شدید ردعمل دیتے ہوئے منتخب نمائندوں اور پانی کمیٹی کی کارکردگی پر سخت تنقید کی ہے۔
عمران عباسی کا مزید کہنا تھا کہ:
"یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ 2025 کے جدید دور میں بھی ہماری ویلیج کونسل کے عوام پانی کے ایک ایک قطرے کو ترس رہے ہیں۔ بارہا توجہ دلانے کے باوجود، وی سی کے چیئرمین اور ممبران صرف وقت گزاری اور خاموشی کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال ان نمائندوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ نہ صرف وی سی کہو شرقی کے منتخب نمائندے، بلکہ مسلم لیگ ن، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے مقامی رہنما بھی پراسرار خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
"یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں بلند و بانگ دعوے کیے تھے۔ جیتنے والے اور ہارنے والے دونوں ایسے غائب ہیں جیسے ہاتھی کے سر سے سینگ۔ عوامی مسائل کسی کے ایجنڈے میں شامل ہی نہیں، سب اپنی اپنی سیاسی دوڑ میں لگے ہیں۔” عمران عباسی
انہوں نے واضح مطالبہ کیا کہ علاقے کی بے اختیار اور ناکام پانی کمیٹی کو فوری ختم کر کے اختیارات بااختیار اور قابل افراد پر مشتمل نئی کمیٹی کو دیے جائیں، جو براہ راست محکمہ یا وی سی کی نگرانی میں کام کرے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مقامی چیئرمین حضرات سے اپیل کی کہ روز بروز بگڑتے ہوئے پانی کے مسئلے کے حل کے لیے فوری طور پر جامع حکمت عملی اپنائی جائے۔
عوامی مطالبہ: پانی کے بحران پر سیاست نہیں، عمل درکار ہے
کہو شرقی کے عوام کا کہنا ہے کہ جب ووٹ لینے کی بات آتی ہے تو تمام جماعتیں علاقے میں سرگرم ہو جاتی ہیں، لیکن جب عوامی مسائل حل کرنے کا وقت آتا ہے تو سب غائب ہو جاتے ہیں۔ پانی جیسا بنیادی مسئلہ آج بھی حل طلب ہے، جو مقامی قیادت کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔
مقامی شہریوں نے ضلعی انتظامیہ، محکمہ پبلک ہیلتھ، اور منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ کہو شرقی کے عوام کو پانی کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں، ورنہ شدید احتجاج کیا جائے گا۔


