ہزارہ

انفارمیشن کمیشن کے اراکین کا سیہون ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے صدر دفتر کا دورہ

ادارہ کی ویب سائٹ کے فعال نہ ہونے پر ناپسندیدگی کا اظہار،فوری طور پر فعال کرنے کی ہدایت

ni

 

کراچی : معلومات تک رسائی اور شفافیت کے قانون 2016 کے تحت معلومات کی عدم فراہمی پر سندھ انفارمیشن کمیشن کے اراکین محمد سلیم خان اور نور محمد دایو نے سیکشن 13 کے سب سیکشن 4 کے تحت سیہون ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے صدر دفتر کا دورہ کیا،اراکین نے اتھارٹی کے بجٹ، استعمال،اسٹاف کی تفصیل،ترقیاتی منصوبوں کے اعداد و شمار،ریکارڈ روم اور دیگر امور کا معائنہ کیا، انفارمیشن کمیشن کے اراکین نے ادارہ کی ویب سائٹ کے فعال نہ ہونے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور اسے فوری طور پر فعال کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ایکٹ کے تحت درکار تمام معلومات کو اپ لوڈ کرنے کے بھی احکامات دئیے،اس موقع پر انفارمیشن کمشنر محمد سلیم خان نے کہا کہ معلومات تک رسائی ہر پاکستان شہری کا بنیادی حق ہے جو کہ اسے آئین پاکستان کے سیکشن 19-اے کے تحت بھی دیا گیا ہے اس لئے تمام سرکاری ادارے شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے عوامی مفاد کی معلومات فراہم کرنے کے پابند ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ اس ایکٹ کے تحت تمام سرکاری ادارے عوام کو معلومات کی فراہمی کے لئے 16 یا اس سے اوپر گریڈ کا افسر مقرر کریں۔ انفارمیشن کمشنر نور محمد دایو نے کہا کہ معلومات کی عدم فراہمی ،غلط بیانی اور اسے جان بوجھ کر چھپانا قابل تعزیر جرم ہے،انہوں نے سرکاری محکموں پر زور دیا کہ وہ مقرر کردہ افسر کی تبدیلی کی صورت میں فوری طور پر کمیشن کو مطلع کریں تاکہ اس ضمن میں ریکارڈ کو درست رکھا جاسکے، کمشنرز نے اتھارٹی کے افسران پر واضح کیا کہ مذکورہ بالا ایکٹ کی خلاف ورزی اور معلومات کی عدم فراہمی یا غلط استعمال پر کمیشن کو اس کے سیکشن 15 اور 16 کے تحت سزا دینے کا اختیار ہے۔سیہون ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نے معلومات کی عدم فراہمی پر غیر مشروط معافی طلب کی اور کہا کہ کمیشن کے احکامات کی مکمل پابندی کی جائے گی،انہوں نے کمیشن سے اظہار وجوہ کا نوٹس واپس لینے کی بھی درخواست کی جس پر کمیشن نے اس واپس لینے کے احکامات جاری کئے،بعد ازاں کمیشن کے اراکین نے سیہون

شریف میں حضرت لعل شہباز قلندر کے مزار پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button