انسانیت کی بقا ءکےلئے سرحدوں، عقائد اور نظریات سے بالا تر ہو کردنیا بھر میں امن کے قیام کےلئے سب کو ملکر جدو جہد کرنی ہوگی شیخ امتیاز حسین
جنگیںکسی مسئلے کا حل نہیں ہوتیں ہمیں عالمی برادری کے طور پر جنگ زدہ ممالک کے مسائل کو مزاکرات کے ذریعے حل کروانے کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں قیام امن کو یقینی بنایا جا سکے

کراچی انسانیت کی بقا ءکےلئے سرحدوں، عقائد اور نظریات سے بالا تر ہو کردنیا بھر میں امن کے قیام کےلئے سب کو ملکر جدو جہد کرنی ہوگی یہ بات روٹری انٹرنیشنل3271 کی پیس کمیٹی 2025-26کے ڈسٹرکٹ چیئر شیخ امتیاز حسین نے غزہ ،یوکرین اور مقبوضہ کشمیر میں امن کی خراب صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ جنگیںکسی مسئلے کا حل نہیں ہوتیں ہمیں عالمی برادری کے طور پر جنگ زدہ ممالک کے مسائل کو مزاکرات کے ذریعے حل کروانے کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں قیام امن کو یقینی بنایا جا سکے اس وقت دنیا تنازعات، مصائب اور بدامنی سے دوچار ہے شیخ امتیاز حسین نے کہا کہ روٹری انٹر نیشنل کا ترجیحی مشن امن اور تنازعات کا حل ہماری ذمہ داری ہے تمام عالمی تنظیمیں دنیا بھر میں جاری جنگوں کی روک تھام میں اپنا اہم کردار ادا کریں انہوں نے کہا کہ غزہ اور کشمیر میں میں جنگیں اصولوں کی بھی دھجیاں بکھیر دی گئی ہیں جس کے بعد معصوم بچوں،خواتین اور بزرگوں کو نشانہ بنا کر ذخمی و ہلاک کیا جا رہا ہے جبکہ مساجدوں،ہسپتالوں اور اسکولوں کو بھی بمباری کر کے نقصان پہنچایا جا رہا ہے شیخ امتیاز حسین نے کہا کہ مکالمے، سفارت کاری، اور انسانی امداد کے لیے آواز بلند کریں اور جنگ سے متاثرہ عوام کی بحالی کےلئے امداد بھیجیں تا کہ متاثرین بھی دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ سکیں انہوں نے کہا کہ میں روٹری انٹرنیشنل ڈسٹرکٹ 3271 پاکستان کی امن کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے ہم آہنگی اور انصاف کا مطالبہ کرتا ہوں ہمیں، عالمی خاندان کے ارکان کے طور پر، اتحاد، ہمدردی اور امن کے لیے اٹل عزم کے ساتھ دنیا میں قیام امن کےلئے آواز بلند کرنی چاہئے خاص طور پر غزہ، فلسطین، یوکرین، اور مقبوضہ کشمیر میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کے لیے جو عرصہ دراز سے درد، نقصان اور تباہی کو برداشت کر رہے ہیں جبکہ غزہ اور فلسطین میں انسانی بحران دنیا کے ضمیر پر داغ ہےشیخ امتیاز حسین نے کہا کہ ہم عالمی رہنماو¿ں، انسان دوست اور ہر فرد پر زور دیتے ہیں کہ وہ فوری جنگ بندی، انسانی امداد، اور باہمی احترام اور وقار پر مبنی طویل المدتی قرارداد کے لیے کام کریں انہوں نے کہا کہ یوکرین ایک قوم جس کو مفاہمت کی ضرورت ہے یوکرین میں تنازعہ کے نتیجے میں ناقابل تصور تباہی، نقل مکانی اور مصائب پیدا ہوئے ہیںجبکہ لاکھوں افراد بے گھر،جسمانی معذور، پیار اور تحفظ کا احساس تک کھو چکے ہیں ہم عالمی طاقتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جنگ پر سفارت کاری، جارحیت پر مذاکرات اور انتقام پر مفاہمت کو ترجیح دیںشیخ امتیاز حسین نے کہاکہ امن صرف جنگ کی عدم موجودگی نہیں بلکہ افہام و تفہیم، احترام اور بقائے باہمی کا نام ہے ہندوستان کے زیر قبضہ کشمیرآزادی اور امن کا حق کئی دہائیوں سے بھارت کے زیر قبضہ کشمیر کے عوام بدامنی اور جبر میں زندگی گزار رہے ہیںاوراپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانے کو کوششیں کر رہے ہیں مزاکرات اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ان کے بنیادی حقوق، انصاف اور امن کے قیام کے لئے کوششیں کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے انہوں نے کہا کہ امن کوئی خواب نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ہے جو ہمیں رحم دلی، باہمی احترام اور انسانیت پر اٹل یقین کے ساتھ تشکیل دینا چاہیے ہم تمام عالمی رہنماوں، کارکنوں اور شہریوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اکٹھے ہوں اور جبر، جنگ اور تشدد سے پاک دنیا کی تعمیر کے لیے انتھک محنت کریںاس موقع پر انہوں نے امن، خوشحالی، اور محبت کے لیے نفرت پر غالب آنے کے لیے دعا کی اور امن کے سفیر، انصاف کے علمبردار اور ایک بہتر کل کے مشعل بردار بننے کے عزم کا بھی اظہار کیا تا کہ انسانیت تمام اختلافات سے بالاتر ہو کر دنیا کے ہر کونے میں امن قائم ہو سکے.


