عالمی

امریکہ کو ایران کی سخت وارننگ: دباؤ اور دھمکیوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، ایرانی وزیر خارجہ

ایران کا مؤقف واضح — قومی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا

ایران کے وزیر خارجہ نے آج ایک اہم بیان میں امریکا کی پالیسیوں اور حالیہ بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کسی بھی دباؤ، دھمکی یا طاقت کے استعمال کے سامنے جھکنے والا نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا اور کسی بیرونی طاقت کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت کرے۔

اپنے بیان میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا مسلسل خطے میں کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے اور مختلف الزامات کے ذریعے ایران پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ایک ذمہ دار ملک ہے جو بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اصولوں کا احترام کرتا ہے، لیکن اگر اس کی سلامتی یا خودمختاری کو خطرہ لاحق ہوا تو ایران بھرپور انداز میں اپنا دفاع کرے گا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کی خارجہ پالیسی کی بنیاد باہمی احترام، برابری اور خودمختاری کے اصولوں پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکا واقعی خطے میں امن چاہتا ہے تو اسے دھمکیوں اور یکطرفہ اقدامات کی پالیسی ترک کرنا ہوگی۔ ان کے مطابق امریکا کی موجودہ حکمت عملی نہ صرف خطے کے امن کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی خطرات پیدا کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران پر عائد کی جانے والی پابندیاں غیر منصفانہ اور غیر قانونی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پابندیاں نہ صرف ایرانی معیشت بلکہ عام شہریوں کو بھی متاثر کرتی ہیں، جو بین الاقوامی انسانی اصولوں کے خلاف ہے۔ وزیر خارجہ نے زور دیا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس معاملے پر انصاف اور توازن کا مظاہرہ کرے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران ہمیشہ مذاکرات اور سفارت کاری کا حامی رہا ہے، لیکن مذاکرات صرف اسی صورت ممکن ہیں جب دونوں فریق ایک دوسرے کے ساتھ برابری اور احترام کے ساتھ بات کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دھمکیوں اور دباؤ کے ماحول میں بامعنی مذاکرات ممکن نہیں ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف الزامات کا مقصد دراصل خطے میں ایران کے کردار کو کمزور کرنا ہے، تاہم ایران اپنے اصولی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ان کے مطابق ایران خطے میں امن، استحکام اور تعاون کا خواہاں ہے اور اسی مقصد کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ یہ ثابت کیا ہے کہ وہ خطے کے مسائل کو مذاکرات اور سیاسی حل کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ اور تصادم کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے مزید مسائل جنم لیتے ہیں۔ انہوں نے عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ ذمہ دارانہ کردار ادا کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران کی دفاعی صلاحیت مکمل طور پر دفاعی نوعیت کی ہے اور اس کا مقصد صرف ملک کی سرحدوں اور عوام کا تحفظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کسی ملک کے خلاف جارحیت کا ارادہ نہیں رکھتا، تاہم اگر ایران پر حملہ کیا گیا یا اس کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو ایران سخت جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے خطے کے ممالک کو بھی پیغام دیتے ہوئے کہا کہ خطے کے مسائل کا حل بیرونی مداخلت میں نہیں بلکہ علاقائی تعاون اور مکالمے میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر خطے کے ممالک مل کر کام کریں تو وہ نہ صرف امن کو یقینی بنا سکتے ہیں بلکہ اقتصادی ترقی اور استحکام بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران خطے کے تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے اور اس مقصد کے لیے ایران نے متعدد سفارتی اقدامات بھی کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی پالیسی ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ تنازعات کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جائے۔

وزیر خارجہ نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ایران اپنی آزادی، خودمختاری اور قومی وقار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران ایک مضبوط قوم ہے اور اپنی سرزمین اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے مثبت کردار ادا کرے اور ایسے اقدامات سے اجتناب کرے جو کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں دانشمندی، تحمل اور سفارت کاری ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے عالمی امن کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کے اس بیان کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی بیان بازی نے عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے اور آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید سفارتی سرگرمیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔

رپورٹ: عبدالامین

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button