اظہار تشکر اجتماع کراچی پریس کلب میری پہچان پاکستان کی جھلکیاں

، آغاز 8بجکر 35منٹ پر تلاوت کلام پاک سے ہوا جسکے بعد نعت رسول مقبول ﷺ پیش کی گئی۔
ِ، پاکستان کی تمام اکائیاں اور بہت بڑی تعداد میں خواتین کے علاہ 45ڈس ایبل افراد قومی جزبے سے سرشار ڈاکٹر عشرت العباد خان کا خطاب سننے کے لئے موجود تھے
، ہر جانب پاکستان زندہ باد۔ پاک فوج زندہ باد۔ جنرل عاصم منیر زندہ باد۔ میری پہچان پاکستان۔۔۔ڈاکٹر عشرت العباد زندہ باد کے نعروں کی گونج تھی۔
ِ، قومی پرچموں کی بھرمار تھی اور کراؤڈ جو جلسے کی شکل اختیار کرگیا تھا مکمل چارجڈ تھا جسکا جزبہ دیدنی تھا۔
ِ، کراچی کے علاوہ، حیدر آباد، مانسہرہ، اسلام آباد اور مختلف شہروں سے اہم شخصیات نے شرکت کی۔
، سابق گورنر سندھ اور اہم عہدوں پر فائز میاں محمد سومرو کی جانب سے وفد نے شرکت کی جسکا ڈاکٹر عشرت العباد نے شکریہ ادا کیا۔

۔ بڑے بڑے پوسٹرز چیف آٖف آرمی اسٹاف، مسلح افواج کے سربراہان، ڈاکٹر عشرت العباد خان، قومی یکجہتی پر مبنی پلے کارڈرز اور اظہار تشکر، افواج پاکستان کے ساتھ یکجہتی کے پلے کارڈز اور ہر سمت قومی پرچم اور قومی نغموں اور نعروں کی گونج تھی جس نے ایک سماں باندھ دیا تھا۔
، امجد رانا نے جب میری پہچان پاکستان اور پاکستان کی افواج کے لئے نغمہ پیش کیا تو مجمع جنون کی حد تک پاکستان کی محبت سے سرشار ہوگیا۔ تمام رہنما اور سابق اسکیوڈرن لیڈر اظہر فخر الدین بھی جوش و جزبات کے ساتھ آرمی چیف، چیف آف ائیر اسٹاف اور قومی پرچم تھامے شامل ہوگئے۔
، پاکستانی قوم کا جزبہ دیدنی تھا۔ متعدد کا کہنا تھا کہ زندہ قوموں کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ افواج پاکستان ناقابل تسخیر ہیں
، ڈاکٹر عشرت العباد کا بیانیہ اور میری پہچان پاکستان پورے پاکستان کی آوازبن گیا۔
ڈاکٹر عشرت العباد نے 9.40منٹ پر جب خطاب شروع ہوا تو ہر طرف پاکستان زندہ باد کے نعرے تھے
، خطاب کے آگاز سے قبل حاضرین نے قومی ترانہ کھڑے ہو کر سنا۔ جزبہ قابل دید تھا۔
، پاکستانی عوام کا جزبہ ڈاکٹر عشرت العباد خان کے خطاب کے عین مطابق تھا۔ بھارت کو ناکوں چنے چبوانے کا جنون تھا۔
پاک فوج کے لئے محبت اور جزبات بیان نہیں کئے جاسکتے۔
، میڈیا نمائندگان کی بہت بڑی تعداد کوریج کے لئے موجود تھی۔
، 80اور 90سالہ بزرگ جناح کیپ پہنے نوجوانوں کی طرح چارج تھے۔
میری پہچان پاکستان کا اطہار تشکر اجتماع جلسہ عام میں بدل گیا۔
ڈاکٹر عشرت العباد خان سے عقیدت کا والہا نہ مظاہرہ بھی دیکھنے میں آیا۔
، بعض مبصرین کے مطابق کراچی پریس کلب کے دونوں جانب سڑکوں پر ہونے والا یہ پروگرام سب سے بڑا تھا۔
جگہ کم پڑنے پر خواتین کو اسٹیج کی جانب نیچے دریوں پر بٹھایا گیا وہ جگہ بھی چھوٹی پڑگئی۔


