کراچی میں محکمہ کالج ایجوکیشن کے زیر اہتمام ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے وفد اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں اساتذہ کے جاری احتجاج، ان کے مطالبات اور تحفظات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ فریقین کے درمیان فائیو ٹیئر فارمولے کی منظوری، ترقیوں کے عمل، سروس بینیفٹس، ہاؤس رینٹ اور میڈیکل الاؤنس کی اپ گریڈیشن سمیت متعدد امور پر سنجیدہ تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں اساتذہ کی جانب سے درسی کتب کی بروقت فراہمی، ریجنل ڈائریکٹرز کی خالی آسامیوں پر فوری تقرری، انفراسٹرکچر کی بہتری، نئے کالجز کے قیام اور ٹرانسفر پوسٹنگ پالیسی کو شفاف اور منصفانہ بنانے کا مطالبہ بھی پیش کیا گیا۔ حکام نے یقین دہانی کرائی کہ تعلیمی نظام کی بہتری حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اساتذہ کے جائز مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
مزید برآں گریڈ 21 سمیت مختلف گریڈز میں ترقیوں کے لیے میرٹ اور کارکردگی کو بنیادی معیار بنانے پر اتفاق کیا گیا تاکہ اہل اور محنتی اساتذہ کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔ خالی آسامیوں کو پُر کرنے، الاؤنسز میں اضافے اور نئی اسامیوں سے متعلق تجاویز پر بھی غور جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا۔ درسی کتب کی کمی کے مسئلے پر متعلقہ ادارے کو خط ارسال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس کے اختتام پر طے پایا کہ ایسوسی ایشن کے تمام مطالبات متعلقہ حکام کو ضروری کارروائی کے لیے بھیج دیے جائیں گے تاکہ صوبے میں اعلیٰ تعلیم کا معیار مزید مضبوط اور مستحکم بنایا جا سکے۔
رپورٹ: عبدالمومن


