عارف حبیب گروپ قومی ائیرلائن کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے قریب
نجکاری کے عمل میں اہم پیش رفت، انتظامی و مالی امور نجی شعبے کے سپرد کیے جانے کا امکان

پاکستان کی قومی ائیرلائن Pakistan International Airlines (پی آئی اے) کے حوالے سے نجکاری کے عمل میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت معروف کاروباری شخصیت Arif Habib کی قیادت میں کام کرنے والا کاروباری گروپ ائیرلائن کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت اور نجی سرمایہ کاروں کے درمیان جاری مذاکرات اپنے حتمی مراحل میں داخل ہو چکے ہیں اور معاہدے کی چند تکنیکی شقوں پر مشاورت جاری ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس ممکنہ معاہدے کے تحت انتظامی اختیارات، مالی معاملات اور آپریشنل کنٹرول نجی گروپ کے سپرد کیے جائیں گے، جبکہ حکومت ایک محدود حصص کی مالک رہ سکتی ہے۔ اس پیش رفت کو ملک میں جاری نجکاری پروگرام کا اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد خسارے میں چلنے والے قومی اداروں کو مستحکم کرنا اور قومی خزانے پر پڑنے والے مالی بوجھ کو کم کرنا ہے۔
پی آئی اے کئی برسوں سے مالی مشکلات، بڑھتے ہوئے قرضوں اور انتظامی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق نجی شعبے کی شمولیت سے ادارے میں کارکردگی، شفافیت اور مسابقتی صلاحیت میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے انتظامی ڈھانچے کے تحت بیڑے کی توسیع، جدید طیاروں کی شمولیت، اور بین الاقوامی روٹس کی بحالی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ نجکاری کا مقصد ملازمین کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے ادارے کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔ اسی سلسلے میں ملازمین کے مستقبل، پنشن اور دیگر مراعات سے متعلق معاملات کو بھی معاہدے کا حصہ بنایا جا رہا ہے تاکہ کسی قسم کی بے یقینی پیدا نہ ہو۔
کاروباری حلقوں نے اس پیش رفت کو ملکی معیشت کے لیے مثبت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر نجکاری شفاف انداز میں مکمل ہوتی ہے تو نہ صرف قومی ائیرلائن کی ساکھ بحال ہو گی بلکہ بیرونی سرمایہ کاری کے لیے بھی ایک سازگار پیغام جائے گا۔
یاد رہے کہ حکومت نے گزشتہ چند برسوں میں مختلف سرکاری اداروں کی نجکاری کا عمل تیز کیا ہے، اور پی آئی اے اس فہرست میں سرفہرست اداروں میں شامل رہی ہے۔ آئندہ چند ہفتوں میں حتمی معاہدے اور باضابطہ اعلان کی توقع کی جا رہی ہے، جس کے بعد قومی ائیرلائن کے انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔
مبصرین کے مطابق یہ فیصلہ ملکی فضائی شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے، بشرطیکہ انتظامی اصلاحات مؤثر انداز میں نافذ کی جائیں اور سروس کے معیار کو عالمی تقاضوں کے مطابق بہتر بنایا جائے۔
رپورٹ: عبدالمومن


