کھیلوں کی دنیا

آخر کار مصباح الحق کیرئیر کے \”اختتام\” پر جا پہنجے

مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ لوگ کیا سننا چاہتے ہیں،کھلاڑی یا کپتان کی حیثیت سے ویسٹ انڈیز جانے کا فیصلہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو کرنا ہے ،میں صرف کھیلنے یا نہ کھیلنے کے بارے میں فیصلہ کر سکتا ہوں اس بات کاحتمی اختیار پی سی بی کو حاصل ہے کہ آئندہ سیریز میں قیادت کا فرض کون سنبھالے گا،یہ فخر اور خوشی کی بات ہے کہ شہریارخان نے فیصلے کا حق مجھے دیا جو جلد ہی سامنے آجائے گا،قومی ٹیسٹ کپتانکراچی(پاکستانی پوسٹ نیوز)قومی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق آخر کار کیریئر کے اختتام پر جا پہنچے ہیں جن کی اس حوالے سے چیئرمین پی سی بی شہریارخان سے جلد ملاقات متوقع ہے ،ان کا کہنا ہے کہ انہیں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ لوگ کیا سننا چاہتے ہیں،کھلاڑی یا کپتان کی حیثیت سے ویسٹ انڈیز جانے کا فیصلہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو کرنا ہے ،وہ صرف اپنے کھیلنے یا نہ کھیلنے کے بارے میں فیصلہ کر سکتے ہیں،اس بات کاحتمی اختیار پی سی بی کو حاصل ہے کہ آئندہ سیریز میں قیادت کا فرض کون سنبھالے گا،یہ فخر اور خوشی کی بات ہے کہ شہریارخان نے فیصلے کا حق انہیں دیا جو جلد ہی سامنے آجائے گا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان سپر لیگ میں مصباح الحق کی ٹیم اسلام آباد یونائیٹڈ کا سفر تمام ہونے کے بعد ایک بار پھر یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ وہ عوامی سطح پر اپنے کیریئر کے متعلق اہم اعلان کب کریں گے کیونکہ انہوں نے گزشتہ ماہ اس بات کا عندیہ دے دیا تھا کہ وہ پی ایس ایل میں اپنی کارکردگی اور فارم کی بنیاد پر مستقبل کا تعین کریں گے ۔ پی ایس ایل سے اخراج کے بعد مصباح الحق نے اس بات کی نشاندہی کر دی کہ وہ پاکستان پہنچ کرجلد ہی پی سی بی چیف سے ملاقات کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تاکہ ان کے ساتھ مستقبل کے حوالے سے بات چیت کی جا سکے ۔ جب مصباح الحق سے کھلاڑی یا کپتان کی حیثیت سے ویسٹ انڈیز جانے کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ لوگ ان سے کیا سننا چاہتے ہیں کہ بارہا کھلاڑی یا کپتان کی حیثیت سے ویسٹ انڈیز جانے کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے کیونکہ اس بات کا فیصلہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو کرنا ہے جبکہ انہیں محض یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ مزید کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ سیریز میں قیادت کون سنبھالے گا اس بات کا حتمی اختیار پی سی بی کو حاصل ہے اور یہی بات وہ چیئرمین پی سی بی سے ملاقات میں طے کریں گے ۔واضح رہے کہ مصباح الحق نے پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن کا آغاز 61رنز کی بہترین اننگز سے کیا لیکن بعد میں وہ کمتر اسکورز میں پھنسے دکھائی دیئے اور اہم میچ میں کراچی کنگز کیخلاف بھی عماد وسیم کے ہاتھوں بولڈ ہو گئے ۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ رنز کے فقدان نے اسلام آباد کی پیش قدمی میں رکاوٹ ڈالی کیونکہ دباؤ کے عالم میں ہی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور اگر سینئر کھلاڑی ہونے کے باوجود کوئی ایسے حالات میں رنز اسکور نہ کر سکے تو پھر اس کا تمام تر دباؤ نہ صرف کھلاڑی بلکہ پوری ٹیم کو برداشت کرنا پڑتا ہے ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کراچی کنگز کا دیا جانے والا ہدف حاصل کیا جا سکتا تھا لیکن ان کی ٹیم پریشر کا سامنا نہیں کر سکی اور یکے بعد دیگرے وکٹیں گرنے سے فتح کی جانب پیش قدمی کی کوشش کو دھچکا لگا۔ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ مصباح الحق پاکستان کی جانب سے گزشتہ ٹیسٹ میچوں کے دوران بھی کم و بیش ناکامی سے دوچار ہوئے اور ان کا اوسط خاصا کمتر رہا جس کی بنیاد پر ان سے ریٹائرمنٹ کے تقاضے بھی کئے جانے لگے اور اب ان کا خیال ہے کہ وہ جلد ہی اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ کرلیں گے البتہ اس بارے میں چیئرمین پی سی بی کی رائے بھی اہمیت کی حامل ہوگی جو انہیں ویسٹ انڈیز کیخلاف سیریز میں کھیلتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں اور اسی وجہ سے انہوں نے کھیل سے الگ ہوجانے کا فیصلہ ٹیسٹ کپتان پر چھوڑ دیا ہے ۔ مصباح الحق کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات پر فخر اور خوشی ہے کہ شہریارخان نے انہیں اپنے کیریئر سے متعلق فیصلے کا اختیار دیا اور وہ اس کو اپنے لئے ایک اعزاز سمجھتے ہیں لیکن جلد یا بدیر انہیں اس بارے میں کسی نتیجے پر پہنچ کر چیئرمین پی سی بی کو بتانا ہی ہوگا کیونکہ ویسٹ انڈیز کے دورے میں اب بہت کم وقت باقی رہ گیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان پہنچتے ہی چیئرمین پی سی بی شہریارخان سے ملاقات کریں گے اور انہیں اپنے حتمی فیصلے سے بھی آگاہ کر دیں گے ۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button