ہزارہ

مشیر سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب کی تاریخی سیٹھی ہاؤس آمد

سیٹھی ہاؤس جیسی پرشکوہ تاریخی عمارات ملکی وغیر ملکی سیاحوں کے علاؤہ محقیقین اور ماہرین تعمیرات کیلئے یکساں دلچسپی کی حامل ہیں، زاہد چن زیب

 

ایسی شاہکار عمارات کی موثر انداز میں عالمی سطع پر شوکیسنگ اور تشہیر کی جائے۔ مشیر سیاحت

سیاحت و ثقافت کو فروغ دیکر صوبے کی آمدن میں اضافے اور کثیر زرمبادلہ کمانے کے علاؤہ خیبرپختونخوا کا سافٹ امیج بھی عالمی سطح پر اجاگر ہوگا۔ زاہد چن زیب

زاہد چن زیب کی سیٹھی ہاؤس میں ملکی و غیر ملکی سیاحوں کیلئے گاہے بگاہے مختلف ثقافتی تقاریب کا اہتمام کرنے کی بھی ہدایت

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے سیاحت وثقافت و آثار قدیمہ زاہد چن زیب نے کہا ہے کہ سیٹھی ہاؤس جیسی پرشکوہ صدیوں پرانی تاریخی عمارات ملکی وغیر ملکی سیاحوں کے علاؤہ محققین اور ماہرین تعمیرات کیلئے یکساں دلچسپی اور اہمیت کی حامل ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہماری صوبائی حکومت ان کی دیکھ بھال اور تزئین وآرائش کے ساتھ ساتھ انہیں اصل حالت میں قائم و دائم رکھنے کیلئے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے محکمہ ثقافت و آثارقدیمہ کے حکام پر زور دیا کہ ایسی شاہکار عمارات کی موثر انداز میں عالمی سطع پر شوکیسنگ اور تشہیر کی جائے تاکہ دنیا بھر کے سیاحوں اور محققین کو ایسی شاندار عمارات کا علم ہوسکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چوک گھنٹہ گھر کے قریب محلہ سیٹھیان میں اس تاریخی عمارت کے دورے کے موقع پر کیا۔ ڈائریکٹر آرکیالوجی و عجائب گھر ڈاکٹر عبدالصمد، کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کی منیجر کلچرل ایونٹس حسینہ شوکت اور دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ زاہد چن زیب نے حکام کو مزید ہدایت کی کہ ورچوئل ٹورازم کے جدید سائنسی طریقوں سے بھی ان تاریخی عمارات کی بین الاقوامی سطع پر تشہیر کی جائے تاکہ لوگ اپنے گھر میں بیٹھ کر انکی سیر کریں اور ان کی دلچسپی اور تجسس میں بھی اضافہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت و ثقافت کو فروغ دیکر صوبے کی آمدن میں اضافے اور کثیر زرمبادلہ کمانے کے علاؤہ خیبرپختونخوا کا سافٹ امیج بھی عالمی سطح پر اجاگر ہوگا۔ مشیر سیاحت نے اس موقع پر قیمتی عمارتی لکڑی اور رنگ برنگی شیشہ کاری سے تعمیر شدہ اس عظیم الشان عمارت کے مختلف حصے دیکھے جن میں عمارت میں بنی لائبریری و ریسرچ سنٹر، تین تہہ خانے، خواب گاہیں، خزانہ و لاکر روم، قیمتی نوادرات و کاروباری دستاویزات، پینٹنگز، قالین و پارچہ جات شامل ہیں۔ ڈاکٹر عبدالصمد نے انہیں بتایا کہ اٹھارہویں صدی عیسوی کے اواخر میں جہلم سے کاروبار کیلئے پشاور نقل مکانی کرنے والا سیٹھی خاندان اپنے فن تعمیر، کاروباری مہارت اور فلاحی و رفاعی کاموں کے حوالے سے مقبول تھا۔ اپنی موجودہ مغل اور وسطی ایشیائی طرز تعمیر کی حامل پر شکوہ رہائش گاہ کیلئے سیٹھی خاندان نے کئی ممالک سے تعمیرات اور شیشہ کاری کے ماہرین بلوا کر اور پاکستان اور افغانستان کے مختلف مقامات پر پور ے جنگل خرید کر اسکی لکڑی سے اس شاندار عمارت کی تعمیر مکمل کی جسے 1990ء میں صوبائی حکومت کی جانب سے عجائب گھر کا درجہ دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس عمارت کے صحن میں تعمیر کردہ تالاب کا ایک وصف یہ بھی تھا کہ رات کو چاند کی روشنی منعکس ہو کر کمروں کے اندر شیشہ کاری کی وجہ سے پوری عمارت صبح تک روشن رہتی جبکہ اس چھ منزلہ عمارت میں کھودے گئے کنویں سے ہر منزل پر ایک خاص کھڑکی کے ذریعے پینے کا ٹھنڈا میٹھا پانی حاصل کیا جاسکتا تھا۔ یہ کھڑکیاں عمارت میں روشنی اور ہوا کے لئے بھی استعمال ہوتی تھیں۔ مشیر سیاحت نے اس منفرد فن تعمیر کی حامل تاریخی عمارت ایک خوشگوار اور یادگار دورہ قرار دیتے ہوئے اس میں ملکی و غیر ملکی سیاحوں کیلئے گاہے بگاہے مختلف ثقافتی تقاریب کا اہتمام کرنے کی ہدایت بھی کی۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button