*سرکاری افسران فرائض کی انجام دہی میں کوئی دباؤ قبول نہ کریں، نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اعظم خان*
خیبرپختونخوا کے نگراں وزیر اعلیٰ محمد اعظم خان نے جمعرات کے روز صوبے کے سول افسران کے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی جس میں میرٹ کے اصولوں کو برقرار رکھنے اور بیرونی اثر و رسوخ سے بالا تر رہتے ہوئے سرکاری ملازمین کے کردار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ نے اپریل 1948 میں پشاور میں سول افسران سے اپنے خطاب کے دوران قائداعظم محمد علی جناح کی تقریر کے فرمودات پر روشنی ڈالی اور شفاف اور موثر انداز میں سرکاری خدمات کی بجاآوری پر زور دیا۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری محمد زبیر اصغر قریشی، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور انتظامی سیکرٹریز نے بھی شرکت کی۔ نگران وزیر اعلیٰ نے کہاکہ سرکاری افسران کسی بھی بیرونی دباؤ میں آئے بغیر اپنے فرائض سرانجام دیں، اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ تمام فیصلے صرف اہلیت، انصاف اور شہریوں کی فلاح و بہبود کی بنیاد پر ہوں۔ وزیراعلیٰ نے سول افسران کو آزادانہ اور موثر طریقے سے اپنے فرائض سرانجام دینے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ نگران وزیر اعلیٰ نے ایک ایسی انتظامیہ کی تشکیل دینے کے لیے حکومت کے عزم کاا ظہار کیا جو شفافیت، احتساب اور عوام کے بہترین مفادات کو ترجیح دیتی ہو۔ قائد کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ”یہ سرکاری ملازمین کی ذمہ داری ہے کہ وہ انتہائی لگن، دیانتداری اور غیر جانبداری کے ساتھ کام کریں۔ انہیں بغیر کسی تعصب، خوف یا احسان کے قوم کی خدمت کرنی چاہیے۔” وزیر اعلیٰ نے اظہار خیال کرتے ہوئے مزید کہاکہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے میں نگران حکومت کا اہم کردار ہے اور یہ نگران حکومت کی ذمہ داری ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو برابری کی بنیاد پر انتخابی ماحول فراہم کرے تاکہ عوام حق رائے دیہی کا ستعمال آزادانہ طور پر کر سکیں۔ وزیر اعلیٰ نے افسران پر زور دیا کہ وہ معاملات خاص طور پر مالی امور، پوسٹنگ ٹرانسفر اور جنرل ایڈمنسٹریشن سے متعلق اقدامات میں شفافیت لائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کرپشن کیسز کی فوری رپورٹ وزیراعلیٰ آفس اور چیف سیکرٹری آفس کو بھیجی جائے اور تمام غیر قانونی تعیناتیوں کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ ادوار میں کی گئی غیر قانونی تقرریوں کی نشاندہی کی جائے اور اس سلسلے میں فوری کارروائی عمل میں لائی جائے. انہوں نے تاکید کی کہ پیچیدہ امور میں محکمہ قانون اور ایڈوکیٹ جنرل سے قانونی رائے لی جائے. نگران وزیر اعلی نے ہدایت کی کہ غیر مجاز افراد اور افسران سے سرکاری گاڑیاں واپس لی جائیں اور اس ضمن میں تعمیلی رپورٹ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کو جلد پیش کی جائے۔ گڈ گورننس کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے چیف سیکرٹری کو ہدایت کی کہ وہ تمام محکموں کی کارکردگی کا ماہانہ جائزہ لیں اور اس ضمن میں رپورٹ وزیراعلیٰ آفس کو پیش کریں۔نگراں وزیراعلیٰ محمد اعظم خان نے ضروری خدمات کو ترجیح دینے اور غیر ضروری اخراجات کو کم کرنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے عوامی فنڈز کے بہتر استعمال کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات پر توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ان منصوبوں اور اقدامات سے عوام کو ٹھوس فوائد حاصل ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


