حوثیوں کے سعودی عرب پر حملے کے بعد پاکستان کو امریکہ۔ایران کشیدگی میں گھسیٹے جانے کا خدشہ
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پاکستان کے لیے سفارتی، معاشی اور سلامتی کے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں، جہاں اسلام آباد کو غیر جانبداری برقرار رکھنے اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے درمیان نازک توازن قائم رکھنا ہوگا۔

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں نے نہ صرف خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اس صورتحال نے پاکستان کے لیے بھی کئی نئے سفارتی، سیاسی، معاشی اور دفاعی خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ اسلام آباد اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کہ کہیں وہ کسی ایسے تنازع کا حصہ نہ بن جائے جس کے اثرات براہِ راست اس کی معیشت، داخلی سلامتی اور خارجہ پالیسی پر مرتب ہوں۔
پاکستان روایتی طور پر سعودی عرب اور ایران دونوں کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے۔ سعودی عرب پاکستان کا ایک اہم معاشی شراکت دار، سرمایہ کار اور لاکھوں پاکستانیوں کے روزگار کا مرکز ہے، جبکہ ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد مشترک ہے۔ ایسے میں اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو پاکستان کے لیے کسی ایک فریق کا ساتھ دینا نہایت مشکل ہوگا۔
حوثی تحریک، جسے ایران کی حمایت حاصل ہونے کا الزام عائد کیا جاتا ہے، گزشتہ کئی برسوں سے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کارروائیاں کرتی رہی ہے۔ حالیہ حملوں نے نہ صرف سعودی عرب کی سلامتی پر سوالات اٹھائے ہیں بلکہ امریکہ کو بھی خطے میں اپنی عسکری موجودگی بڑھانے پر مجبور کیا ہے۔ واشنگٹن پہلے ہی خلیج میں اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ ایران ان الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے کہ وہ حوثیوں کو براہِ راست عسکری کارروائیوں کی ہدایت دیتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست تصادم ہوتا ہے تو پاکستان پر مختلف قسم کے دباؤ بڑھ سکتے ہیں۔ امریکہ پاکستان سے سفارتی یا انٹیلی جنس تعاون کا مطالبہ کر سکتا ہے، جبکہ سعودی عرب بھی اپنے دیرینہ اتحادی ہونے کے ناطے پاکستان سے حمایت کی توقع رکھ سکتا ہے۔ دوسری جانب ایران یہ چاہے گا کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی بھی ایسی سرگرمی کے لیے استعمال نہ ہونے دے جو اس کے مفادات کے خلاف ہو۔
پاکستان کی حکومت ماضی میں بھی واضح کر چکی ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک کی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہتی۔ 2015 میں یمن جنگ کے دوران پاکستانی پارلیمنٹ نے متفقہ قرارداد کے ذریعے فوج بھیجنے سے انکار کرتے ہوئے غیر جانبداری اختیار کی تھی۔ اس فیصلے کو پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جاتا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے اسلام آباد نے واضح کیا کہ وہ خطے میں امن اور مذاکرات کو ترجیح دیتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں پاکستان کی معیشت بھی ایک اہم عنصر ہے۔ عالمی سطح پر کشیدگی بڑھنے سے خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا براہِ راست اثر پاکستان جیسے درآمدی معیشت رکھنے والے ملک پر پڑے گا۔ مہنگا تیل نہ صرف درآمدی بل میں اضافہ کرے گا بلکہ مہنگائی، بجلی کی قیمتوں اور صنعتی پیداوار پر بھی منفی اثر ڈالے گا۔ اس کے علاوہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو عالمی تجارتی راستے متاثر ہو سکتے ہیں، جس سے پاکستان کی درآمدات اور برآمدات دونوں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
پاکستان کے لیے ایک اور اہم چیلنج داخلی سلامتی ہے۔ اگر مشرقِ وسطیٰ میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات پاکستان کے اندر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ماضی میں بھی علاقائی تنازعات نے پاکستان میں فرقہ وارانہ تناؤ کو ہوا دی تھی، جس سے امن و امان کی صورتحال متاثر ہوئی۔ اسی لیے حکومت اور سیکیورٹی ادارے اس وقت نہایت محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
سفارتی سطح پر پاکستان نے ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات، تحمل اور علاقائی تعاون کی حمایت کی ہے۔ اسلام آباد کی کوشش ہوگی کہ وہ سعودی عرب، ایران اور امریکہ تینوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو متوازن رکھے اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کرے جو اسے براہِ راست تنازع کا فریق بنا دے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان مستقبل میں ثالثی کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے، کیونکہ اس کے دونوں علاقائی ممالک کے ساتھ سفارتی روابط موجود ہیں۔
پاکستان کی عسکری قیادت بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ اگرچہ ملک کی افواج کا بنیادی فوکس سرحدی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں ہیں، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں کسی بڑی جنگ کی صورت میں علاقائی سلامتی کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔ اسی لیے پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی میں بھی محتاط منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ قومی سلامتی پر کسی ممکنہ اثرات کا بروقت مقابلہ کیا جا سکے۔
خارجہ پالیسی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے سب سے موزوں راستہ "فعال غیر جانبداری” (Active Neutrality) ہے۔ اس حکمتِ عملی کے تحت پاکستان کسی بھی عسکری اتحاد کا حصہ بننے کے بجائے سفارتی رابطوں، امن مذاکرات اور علاقائی استحکام کو فروغ دے سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف پاکستان کے قومی مفادات محفوظ رہیں گے بلکہ عالمی برادری میں اس کا مثبت سفارتی تشخص بھی برقرار رہے گا۔
اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی محدود رہتی ہے تو پاکستان نسبتاً محفوظ رہ سکتا ہے، لیکن اگر تنازع وسیع جنگ میں تبدیل ہو جاتا ہے تو اس کے اثرات جنوبی ایشیا تک پہنچ سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں پاکستان کو اپنی سرحدی سلامتی، توانائی کی ضروریات، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے تحفظ اور اقتصادی استحکام کے لیے ہنگامی اقدامات کرنا پڑ سکتے ہیں۔
دوسری جانب سعودی عرب میں لاکھوں پاکستانی کام کرتے ہیں، جن کی ترسیلاتِ زر پاکستان کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اگر خطے میں جنگ یا بدامنی بڑھتی ہے تو پاکستانی کارکنوں کے روزگار اور ان کی سلامتی بھی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے پاکستان کی زرمبادلہ آمدن پر منفی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران صرف فوجی یا سفارتی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی سپلائی اور علاقائی استحکام سے بھی جڑا ہوا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ہوگا کہ وہ عالمی طاقتوں کی کشمکش سے خود کو دور رکھتے ہوئے اپنے قومی مفادات کا تحفظ کریں۔
نتیجتاً، حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں نے ایک مرتبہ پھر مشرقِ وسطیٰ کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ پاکستان اس وقت ایک نازک سفارتی موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے اپنے دیرینہ اتحادی سعودی عرب، ہمسایہ ایران اور عالمی طاقت امریکہ کے ساتھ تعلقات میں محتاط توازن برقرار رکھنا ہوگا۔ ماہرین کا اتفاق ہے کہ پاکستان کے لیے بہترین راستہ غیر جانبداری، فعال سفارت کاری، علاقائی امن کی حمایت اور قومی مفادات کو ہر قسم کے بیرونی دباؤ پر ترجیح دینا ہے۔ موجودہ بحران اس بات کا امتحان بھی ہے کہ پاکستان کس حد تک اپنی آزاد خارجہ پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔



