ایفل ٹاور پر فلسطینی پرچم لہرانے والے 6 افراد گرفتار
پیرس میں احتجاجی کارروائی کے بعد سیکیورٹی اداروں کی مداخلت، واقعے نے توجہ حاصل کر لی

ایفل ٹاور پر فلسطینی پرچم لہرانے کی کوشش کرنے والے 6 افراد کو فرانسیسی پولیس نے گرفتار کر لیا۔ واقعہ پیرس میں پیش آیا، جہاں سیکیورٹی حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔
ذرائع کے مطابق یہ افراد فلسطین کے حق میں احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے ایفل ٹاور کے قریب جمع ہوئے تھے۔ احتجاج کے دوران انہوں نے فلسطینی پرچم لہرایا، جس کے بعد پولیس اور سیکیورٹی اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور کارروائی کرتے ہوئے متعدد افراد کو گرفتار کر لیا۔
واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی جبکہ ایفل ٹاور کے اطراف اضافی نفری تعینات کی گئی۔ حکام کے مطابق عوامی مقامات پر احتجاج اور سیکیورٹی سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔
فرانس میں حالیہ عرصے کے دوران فلسطین کے حق میں مختلف مظاہرے اور ریلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ انسانی حقوق اور سیاسی حلقوں کی جانب سے غزہ اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر مسلسل ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور معاملے کی قانونی نوعیت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تاہم حکام نے فوری طور پر زیرِ حراست افراد کی شناخت یا ان کے خلاف ممکنہ الزامات کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کے مظاہرے دنیا کے مختلف شہروں میں جاری ہیں، جہاں عوام اور سماجی تنظیمیں مختلف انداز میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہی ہیں۔
فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہروں میں اکثر انسانی حقوق، جنگ بندی اور شہریوں کے تحفظ کے مطالبات سامنے آتے ہیں۔ فرانس سمیت کئی یورپی ممالک میں ایسے احتجاجی مظاہروں کے دوران سیکیورٹی اور عوامی نظم و ضبط کے حوالے سے سخت اقدامات کیے جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایفل ٹاور جیسے عالمی شہرت یافتہ مقام پر احتجاجی سرگرمی فوری طور پر بین الاقوامی توجہ حاصل کر لیتی ہے، اسی لیے فرانسیسی حکام ایسے واقعات پر فوری ردعمل دیتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر واقعے کی تصاویر اور ویڈیوز بھی گردش کرتی رہیں، جہاں بعض صارفین نے فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا جبکہ بعض نے سیکیورٹی قوانین کی خلاف ورزی پر تنقید کی۔
دوسری جانب انسانی حقوق کے بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج جمہوری معاشروں کا حصہ ہے، تاہم اس کے ساتھ مقامی قوانین اور عوامی تحفظ کے اصولوں کی پابندی بھی ضروری ہوتی ہے۔
واقعے کے بعد فرانسیسی حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ عوامی مقامات پر احتجاج یا اجتماعات کے دوران مقررہ قوانین اور سیکیورٹی ہدایات پر عمل کریں تاکہ کسی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔



