سپین وام میں قبائلی مشران کا ترقیاتی معاہدوں میں شفافیت اور مکمل احتساب کا مطالبہ
قوم طوری میرعلی کے عمائدین اور نوجوانوں کے تحفظات، خفیہ معاہدے مسترد، تمام ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات منظرِ عام پر لانے کا مطالبہ

شمالی وزیرستان کی تحصیل سپین وام میں قوم طوری میرعلی کے مشران، قبائلی عمائدین اور نوجوانوں نے مبینہ غیر شفاف معاہدوں، ترقیاتی منصوبوں اور قوم کے مالی و انتظامی حقوق سے متعلق شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مکمل احتساب اور شفافیت کا مطالبہ کیا ہے۔
اس سلسلے میں قبائلی مشر ملک ولی اللہ وزیر کی قیادت میں ایک وفد نے ڈی ایس پی عصمت اللہ وزیر سے ملاقات کی، جس میں علاقے میں جاری ترقیاتی منصوبوں، ٹھیکوں اور مالی معاملات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ قوم اب ایسے خفیہ معاہدوں اور بند کمروں میں ہونے والے فیصلوں کو قبول نہیں کرے گی جن میں عوامی نمائندگی اور شفافیت کا فقدان ہو۔ مشران نے مطالبہ کیا کہ علاقے میں جاری تمام ترقیاتی منصوبوں، ہیوی مشینری، ٹرانسپورٹ، سپلائی، صفائی اور دیگر ٹھیکوں کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے پیش کی جائیں تاکہ شکوک و شبہات کا خاتمہ ہو اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
قبائلی رہنماؤں نے کہا کہ اگر بعض منصوبوں کے معاہدے اور ریکارڈ فراہم کیے جا سکتے ہیں تو دیگر ترقیاتی منصوبوں اور مالی معاملات کی تفصیلات کیوں پوشیدہ رکھی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق قوم کے وسائل اور فنڈز عوام کی امانت ہیں، اس لیے ہر معاہدے اور ترقیاتی کام کے حوالے سے مکمل جوابدہی ضروری ہے۔
ملاقات میں قومی مشر ملک بارہ خان، ایس ایچ او ساخر محمد، قبائلی عمائدین اور دیگر مشران بھی موجود تھے۔ اس موقع پر مقررین نے کہا کہ علاقے کے عوام اپنے حقوق سے متعلق پہلے سے زیادہ باشعور ہو چکے ہیں اور اب کسی بھی غیر واضح یا متنازع معاہدے کو خاموشی سے قبول نہیں کیا جائے گا۔
وفد نے بعض مالی اور ترقیاتی معاملات پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قوم کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں مقامی لوگوں کو ترجیح دی جائے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔
قبائلی عمائدین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ترقیاتی کاموں میں شفافیت نہ صرف بداعتمادی کو ختم کرتی ہے بلکہ امن و استحکام کو بھی فروغ دیتی ہے۔ ان کے مطابق اگر عوام کو اعتماد میں لیا جائے اور تمام معاملات کھلے انداز میں کیے جائیں تو علاقے میں ترقیاتی عمل زیادہ مؤثر اور پائیدار ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈی ایس پی عصمت اللہ وزیر نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ تمام معاملات قانون کے مطابق اور شفاف انداز میں دیکھے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی اعتماد کی بحالی اور امن و امان کا قیام انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، اور کسی بھی شکایت یا تحفظات کو سنجیدگی سے لیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مقامی آبادی کے خدشات کو دور کرنے کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا جائے گا اور جہاں ضروری ہوا وہاں ریکارڈ اور دستاویزات کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔
وفد نے واضح کیا کہ اگر معاملات میں شفافیت نہ لائی گئی اور عوام کو اصل دستاویزات فراہم نہ کی گئیں تو قوم آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔ مشران نے اس بات پر زور دیا کہ قبائلی علاقوں میں ترقیاتی عمل کو عوامی اعتماد اور مشاورت کے ساتھ آگے بڑھانا ضروری ہے تاکہ تنازعات اور بداعتمادی سے بچا جا سکے۔
جرگے کے اختتام پر مقررین نے کہا کہ قوم کا پیسہ قوم کی امانت ہے اور اس کے تحفظ کے لیے ہر قانونی اور آئینی راستہ اختیار کیا جائے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام ترقیاتی معاہدوں، مالی ریکارڈ اور منصوبہ بندی کے عمل کو عوام کے سامنے لایا جائے تاکہ شفافیت اور احتساب کے اصولوں پر مکمل عملدرآمد ہو سکے۔
مقامی سماجی حلقوں کے مطابق قبائلی علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے شفافیت کا مطالبہ ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ عوام اب اپنے وسائل، حقوق اور ترقیاتی عمل میں براہِ راست شمولیت چاہتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر مقامی آبادی کو اعتماد میں لے کر فیصلے کیے جائیں تو اس سے نہ صرف ترقیاتی کاموں کا معیار بہتر ہوگا بلکہ عوام اور انتظامیہ کے درمیان اعتماد بھی مضبوط ہوگا۔



