اکھڑیلہ میں کمسن بچوں پر چاقو سے حملہ، ملزم گرفتار
چچا زاد نے دو بچوں کو گھر میں زخمی کر دیا، پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی

آج دوپہر تقریباً ڈھائی بجے تھانہ نواں شہر کی حدود اکھڑیلہ میں ایک نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں قریبی رشتہ دار نے ہی کمسن بچوں پر حملہ کر کے انہیں شدید زخمی کر دیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق 9 سالہ عبدالسلام ولد فیصل ممتاز اور 4 سالہ ابو حریرہ ولد قاسم ممتاز اپنے گھر میں موجود تھے کہ اسی دوران ان کے چچا زاد ذکاء اللہ ولد سیف الرحمن، سکنہ اکھڑیلہ، نے اچانک چھری سے حملہ کر دیا۔
ملزم نے دونوں بچوں کی گردن پر وار کیے جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔ اہل خانہ اور اہل محلہ نے شور سن کر فوری طور پر موقع پر پہنچ کر بچوں کو ملزم کے چنگل سے بچایا اور زخمی حالت میں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق بچوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے تاہم ڈاکٹروں کی جانب سے انہیں بچانے کی ہر ممکن کوشش جاری ہے۔
اطلاع ملنے پر تھانہ نواں شہر پولیس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور شواہد اکٹھے کر کے ابتدائی تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزم ذکاء اللہ کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 324 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے، جبکہ ملزم کو حراست میں لے کر اس سے تفتیش کی جا رہی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں واقعہ گھریلو یا ذاتی تنازعہ کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے، تاہم حتمی حقائق تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔ جائے وقوعہ سے آلہ واردات بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے اور فرانزک شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پایا جا رہا ہے اور اہل علاقہ کی بڑی تعداد ہسپتال اور جائے وقوعہ کے باہر جمع ہو گئی۔ شہریوں نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
سماجی حلقوں نے بھی اس واقعے کو معاشرتی اقدار کے لیے لمحہ فکریہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قریبی رشتوں میں بڑھتی ہوئی تشدد کی ایسی وارداتیں نہایت تشویشناک ہیں، جن پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی ہر پہلو سے تفتیش کی جا رہی ہے اور جلد ہی مزید حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔



