قومی

سندھ حکومت کی نئی گندم خریداری پالیسی کا اعلان، کاشتکاروں کے مفادات کے تحفظ پر زور

شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ یکم اپریل سے 109 مراکز پر خریداری شروع، فی من قیمت 3,500 روپے مقرر

سندھ حکومت نے گندم خریداری کے حوالے سے نئی پالیسی کا اعلان کر دیا ہے، جس کا مقصد کاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ، خوراک کی دستیابی کو یقینی بنانا اور آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ پالیسی حکومت کے وسیع وژن کے مطابق تیار کی گئی ہے، جس میں زراعت کے شعبے کو مستحکم کرنے اور کسانوں کو براہ راست فائدہ پہنچانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ایک ملین میٹرک ٹن گندم خریدنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ صوبے میں خوراک کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے اور آٹے کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے یکم اپریل سے صوبے بھر میں 109 خریداری مراکز قائم کیے جائیں گے، جہاں کاشتکار اپنی گندم سرکاری نرخ پر فروخت کر سکیں گے۔ اس سال گندم کی امدادی قیمت 3,500 روپے فی من مقرر کی گئی ہے، جو موجودہ معاشی حالات کے تناظر میں کاشتکاروں کے لیے ایک مناسب ریٹ تصور کیا جا رہا ہے۔

شرجیل انعام میمن نے اس بات پر زور دیا کہ نئی پالیسی میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اہم اصلاحات کی گئی ہیں۔ خاص طور پر درمیانی افراد (مڈل مین) کے کردار کو ختم کرنے کے لیے پہلی بار گندم کی خریداری صرف رجسٹرڈ ہاری کارڈ ہولڈرز سے کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ اصل کاشتکاروں کو براہ راست فائدہ پہنچے اور وہ کسی استحصالی نظام کا شکار نہ ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہاری کارڈ کے ذریعے خریداری کا سب سے زیادہ فائدہ حقیقی کسانوں کو ہوگا، اور اندازاً 3 لاکھ 30 ہزار کاشتکار اس پالیسی سے براہ راست مستفید ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے ایک اور اہم فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس سال باردانہ (گندم کے تھیلے) فراہم نہیں کیے جائیں گے، بلکہ کاشتکار اپنے بیگز خود لائیں گے۔

تاہم، اس سہولت کے بدلے حکومت ہر بیگ کے لیے 60 روپے کی ادائیگی کرے گی، جو براہ راست کاشتکاروں کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جائے گی۔ اس ادائیگی کے لیے Sindh Bank کو استعمال کیا جائے گا، جس سے مالی لین دین میں شفافیت اور سہولت کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ اس ڈیجیٹل نظام سے نہ صرف بدعنوانی کے امکانات کم ہوں گے بلکہ ادائیگی کا عمل بھی تیز اور مؤثر ہوگا۔

سینئر وزیر کے مطابق یہ نیا طریقہ کار خریداری کے پورے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف عمل آسان ہوگا بلکہ کسی بھی قسم کی جعلسازی یا بدعنوانی کے امکانات بھی کم سے کم ہو جائیں گے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے زراعت کے شعبے میں اصلاحات لائی جائیں اور کسانوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں۔

شرجیل انعام میمن نے مزید بتایا کہ حکومت کے پاس اس وقت 200,000 ٹن گندم کا اسٹاک موجود ہے، جسے عوامی ضروریات کے مطابق استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں سالانہ تقریباً 4.3 ملین ٹن گندم پیدا ہوتی ہے، اور موجودہ پالیسی کو خاص طور پر چھوٹے کاشتکاروں کی مدد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، تاکہ وہ براہ راست مالی فوائد حاصل کر سکیں۔

انہوں نے ہاری کارڈ اسکیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت کاشتکار پہلے ہی ڈی اے پی اور یوریا کھاد پر سبسڈی حاصل کر رہے ہیں، جس سے ان کی پیداواری لاگت میں کمی آئی ہے۔ نئی گندم خریداری پالیسی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کا مقصد کاشتکاروں کی معاشی حالت کو بہتر بنانا ہے۔

ماہرین زراعت کے مطابق یہ پالیسی اگر مؤثر طریقے سے نافذ کی گئی تو نہ صرف گندم کی خریداری کا نظام بہتر ہوگا بلکہ اس سے کسانوں کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ مارکیٹ میں استحکام آئے گا اور آٹے کی قیمتوں میں غیر ضروری اتار چڑھاؤ کو بھی روکا جا سکے گا۔

دوسری جانب، کچھ حلقوں کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ باردانہ فراہم نہ کرنے کا فیصلہ چھوٹے کاشتکاروں کے لیے کس حد تک آسان ہوگا، تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ بیگ کے بدلے براہ راست ادائیگی اس خلا کو پورا کر دے گی اور کسانوں کو مالی طور پر نقصان نہیں ہوگا۔

مجموعی طور پر سندھ حکومت کی نئی گندم خریداری پالیسی ایک جامع حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد زراعت کے شعبے کو مضبوط بنانا، کاشتکاروں کو سہولت فراہم کرنا اور عوام کو سستی خوراک مہیا کرنا ہے۔ اگر اس پالیسی پر مؤثر انداز میں عملدرآمد کیا گیا تو یہ نہ صرف سندھ بلکہ دیگر صوبوں کے لیے بھی ایک مثال بن سکتی ہے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button