خیبر پختونخوا میں سیف سٹی کا جدید نظام فعال، گاڑی والے قانون کے شکنجے میں
جدید کیمروں اور ای چالان سسٹم کے ذریعے ٹریفک قوانین کی خودکار نگرانی کا آغاز

صوبہ خیبر پختونخوا میں عوام کی جان و مال کے تحفظ اور ٹریفک نظم و ضبط کو بہتر بنانے کے لیے سیف سٹی کا جدید نظام باقاعدہ طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔ اس جدید نظام کے تحت اہم شاہراہوں، چوراہوں اور شہری مراکز میں ہائی ریزولوشن کیمرے نصب کیے گئے ہیں جو چوبیس گھنٹے ٹریفک کی نگرانی کریں گے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد نہ صرف ٹریفک قوانین کی مؤثر عملداری یقینی بنانا ہے بلکہ حادثات کی شرح میں نمایاں کمی لانا بھی ہے۔
سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت نصب کیے گئے کیمرے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں جو خودکار انداز میں خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر کوئی موٹر سائیکل سوار ہیلمٹ کے بغیر سفر کرے، کوئی ڈرائیور سیٹ بیلٹ استعمال نہ کرے یا دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال کرے تو سسٹم فوری طور پر اس کی تصویر اور گاڑی کا ریکارڈ محفوظ کر لیتا ہے۔ اس کے بعد متعلقہ گاڑی کے رجسٹرڈ مالک کے نام پر خودکار ای چالان جاری کر دیا جاتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس نظام سے شفافیت میں اضافہ ہوگا اور جرمانوں کے عمل میں انسانی مداخلت کم سے کم ہو جائے گی، جس سے بدعنوانی کے امکانات بھی کم ہوں گے۔ ای چالان کی ادائیگی کے لیے آن لائن اور بینکنگ چینلز کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ شہری آسانی سے اپنے جرمانے ادا کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی مہم بھی چلائی جا رہی ہے تاکہ شہریوں کو قوانین کی اہمیت اور نئے نظام کے طریقہ کار سے آگاہ کیا جا سکے۔
ٹریفک ماہرین کے مطابق ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کا استعمال معمولی بات نہیں بلکہ زندگی بچانے کا ذریعہ ہے۔ عالمی اعداد و شمار کے مطابق حادثات میں ہونے والی اموات کی بڑی وجہ حفاظتی اقدامات کو نظر انداز کرنا ہے۔ موبائل فون کے استعمال سے ڈرائیور کی توجہ بٹتی ہے جو کسی بھی لمحے بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے اس معاملے میں زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کر رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا پولیس کے ترجمان کے مطابق سیف سٹی سسٹم نہ صرف ٹریفک نظم و ضبط بہتر بنائے گا بلکہ جرائم کی روک تھام میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ جدید مانیٹرنگ سینٹرز سے شہر کے مختلف حصوں کی براہ راست نگرانی ممکن ہوگی جس سے ہنگامی صورتحال میں فوری رسپانس دیا جا سکے گا۔
حکام نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی کریں کیونکہ یہ صرف قانونی تقاضا نہیں بلکہ ان کی اپنی اور دوسروں کی حفاظت کے لیے ناگزیر ہے۔ سیف سٹی نظام کا مقصد جرمانے وصول کرنا نہیں بلکہ ایک محفوظ اور منظم معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں ہر شہری ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔
رپورٹ: عبدالمومن



