عالمی

ایران کا خلیجی ممالک اور اسرائیل پر بھرپور جوابی حملہ

ایرانی بیلسٹک میزائلوں کی بارش، خطے میں ہنگامی صورتحال نافذتہران / ریاض / دوحہ / دبئی / کویت سٹی / تل ابیب — نمائندگان خصوصی

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اس وقت شدید ترین مرحلے میں داخل ہوگئی جب ایران نے بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، کویت اور اسرائیل کی سمت بیلسٹک میزائل داغ دیے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ حملے حالیہ دشمن کارروائیوں کے ردعمل میں کیے گئے ہیں، جبکہ خطے کے متعدد ممالک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔

ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ درجنوں بیلسٹک میزائل اور ڈرون مختلف اہداف کی طرف داغے گئے۔ پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر حملے کا جواب پوری طاقت سے دیا جائے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی "دفاعی ردعمل” کے طور پر کی گئی۔

سعودی عرب میں دھماکوں کی آوازیں

سعودی دارالحکومت ریاض سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ سعودی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی کہ فضائی دفاعی نظام کو فوری طور پر فعال کر دیا گیا اور متعدد میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کچھ ملبہ رہائشی علاقوں کے قریب گرا تاہم بڑے جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ سعودی حکام نے اس حملے کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

قطر میں الرٹ، فضائی حدود عارضی طور پر بند

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بھی سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی۔ قطری وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا کہ فضائی دفاعی نظام نے ممکنہ خطرات کو ناکام بنا دیا ہے۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر چند گھنٹوں کے لیے فضائی حدود بند کر دی گئیں جبکہ تعلیمی ادارے اور سرکاری دفاتر عارضی طور پر معطل رہے۔

دبئی اور ابو ظہبی میں ہنگامی اقدامات

متحدہ عرب امارات کے شہروں دبئی اور ابو ظہبی میں بھی فضا میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ اماراتی حکام کے مطابق بیشتر میزائل راستے میں ہی تباہ کر دیے گئے۔ شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے ہنگامی منصوبہ فعال کیا گیا۔ مالیاتی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھنے میں آئی اور تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

کویت میں دفاعی نظام متحرک

کویت سٹی میں بھی الرٹ جاری کیا گیا اور دفاعی نظام کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا۔ کویتی وزارتِ دفاع نے کہا کہ کسی بھی بیرونی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل تیاری موجود ہے۔ عوام سے پرسکون رہنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی گئی۔

اسرائیل میں سائرن، آئرن ڈوم متحرک

اسرائیل میں متعدد علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے آنے والے میزائلوں کو روکنے کی کوشش کی۔ بعض علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا اور کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز

ایرانی حملوں کے بعد عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ کئی ممالک نے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔ اقوامِ متحدہ میں ہنگامی اجلاس بلانے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے تاکہ صورتحال کو قابو میں رکھا جا سکے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یہ تنازع پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ خلیجی ممالک میں موجود غیر ملکی شہریوں کو بھی محتاط رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

معاشی اثرات

تیل پیدا کرنے والے ممالک پر حملوں کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ اسٹاک مارکیٹس میں مندی کا رجحان رہا جبکہ سرمایہ کاروں نے محفوظ سرمایہ کاری کے ذرائع کی طرف رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔

عوامی ردعمل

متاثرہ ممالک میں عوامی سطح پر خوف اور بے چینی پائی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر مختلف ویڈیوز اور تصاویر گردش کر رہی ہیں جن میں آسمان پر روشن شعلے اور دھماکوں کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔ تاہم حکام نے عوام سے غیر مصدقہ خبروں پر یقین نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

ممکنہ پیش رفت

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ چند گھنٹے انتہائی اہم ہیں۔ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو صورتحال مزید سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق بیلسٹک میزائلوں کا استعمال خطے میں جنگ کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے، اس لیے عالمی برادری فوری مداخلت کی کوشش کر رہی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے اور پوری دنیا کی نظریں آنے والی پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

رپورٹ: عبدالمومن

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button