ہزارہ

ایبٹ آباد میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی

ضلع ایبٹ آباد میں دفعہ 144 کے نفاذ سے امن و امان کو یقینی بنانے کا اقدام

ایبٹ آباد میں ضلع انتظامیہ نے ملک میں موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور ماہِ رمضان المبارک 2026ء کے پیش نظر عوامی مقامات پر سیاسی اور دیگر مشکوک سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد سرمد سلیم اکرم نے اعلان کیا ہے کہ دفعہ 144 ضابطہ فوجداری (CrPC) کے تحت یہ پابندیاں فوری طور پر نافذ العمل ہوں گی اور ایک ماہ تک جاری رہیں گی۔ اس اقدام کا مقصد رمضان المبارک کے دوران امن و امان قائم رکھنا، عوام کو تحفظ فراہم کرنا اور کسی بھی غیر قانونی یا مشکوک سرگرمی کو روکنا ہے۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ایبٹ آباد کی سفارش اور سیکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق ضلع ایبٹ آباد میں کسی بھی غیر قانونی یا عوامی اجتماع کی اجازت نہیں ہوگی، چاہے وہ سیاسی ہو، مذہبی یا کسی اور نوعیت کی۔ غیر مجاز اجتماعات، وال چاکنگ، اشتعال انگیز نعرہ بازی، غیر قانونی پارکنگ، موٹر سائیکل پر ڈبل سواری اور ون ویلنگ، اسلحہ کی نمائش، آذان اور خطبہ جمعہ کے علاوہ لاؤڈ اسپیکر کے استعمال سمیت متعدد سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

حکم نامے کے مطابق، انسانی جان کے لیے مضر کیمیکلز کی ترسیل، قابل اعتراض مواد کی تقسیم، مٹی کے تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی کنٹینرز میں فروخت، غیر قانونی یا غیر مجاز درختوں کی کٹائی، اور ضلع میں ہر قسم کے ڈرون اور کواڈ کاپٹر اُڑانے پر بھی پابندی ہوگی۔ یہ تمام اقدامات عوام کی حفاظت اور شہریوں کے آرام و سکون کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد نے واضح کیا ہے کہ حکم نامے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 188 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس میں گرفتاریاں، جرمانے اور عدالتی کارروائیاں شامل ہیں، اور یہ کارروائیاں ایک ماہ کے نفاذ کے دوران مکمل طور پر مؤثر رہیں گی۔

ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے دوران امن، بھائی چارے اور قانون کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔ انتظامیہ کی ہدایات کے مطابق عوام کو چاہئے کہ وہ غیر قانونی اجتماعات یا سرگرمیوں میں حصہ نہ لیں اور مشکوک افراد یا سرگرمیوں کے بارے میں فوراً پولیس کو اطلاع دیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دفعہ 144 کا نفاذ نہ صرف عوامی مقامات پر کسی بھی ممکنہ فساد یا ہنگامے کو روکنے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ سیاسی جماعتوں اور عوام کو بھی اپنی سرگرمیوں میں احتیاط اور ذمہ داری کا شعور دے گا۔ رمضان کے دوران معاشرتی ہم آہنگی کو برقرار رکھنا، عوامی تحفظ کو یقینی بنانا اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کرنا مقامی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

اس سے قبل، مختلف علاقوں میں غیر قانونی اجتماعات اور ڈرون یا کواڈ کاپٹر کے غیر مجاز استعمال کی شکایات موصول ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے عوام کی حفاظت اور شہر میں امن قائم رکھنا ایک اہم مسئلہ بن گیا تھا۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ان پابندیوں کا مقصد کسی کو تنگ کرنا یا محدود کرنا نہیں بلکہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنا ہے۔

عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے رویے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور رمضان کے دوران کسی بھی مشکوک یا خطرناک سرگرمی میں شامل نہ ہوں۔ غیر قانونی پارکنگ، اسلحہ کی نمائش، اور اشتعال انگیز نعرہ بازی جیسے اقدامات شہریوں کی حفاظت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں اور ان پر فوری قانونی کارروائی ہوگی۔

اس موقع پر پولیس حکام نے بھی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے روزمرہ کے معمولات جاری رکھیں، لیکن عوامی اجتماعات یا سیاسی پروگراموں میں شامل ہونے سے پہلے انتظامیہ کی ہدایات کا خیال رکھیں۔ یہ پابندیاں ایک ماہ کے لیے نافذ ہیں اور اس دوران عوامی تعاون سے امن قائم رکھنے میں مدد ملے گی۔

ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ دفعہ 144 کے اختتام کے بعد بھی دوران نفاذ کی گئی کارروائیاں، سزائیں، تحقیقات اور عدالتی کارروائیاں بدستور مؤثر رہیں گی۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ کسی بھی قسم کے غیر قانونی یا خطرناک عمل کو سرزد ہونے سے روکا جا سکے۔

یہ اقدام ضلع ایبٹ آباد میں سیکیورٹی کو مضبوط بنانے، سیاسی اور عوامی سرگرمیوں کے دوران ممکنہ فساد کو روکنے اور رمضان کے مقدس مہینے میں امن قائم رکھنے کے لیے انتہائی اہم اور مؤثر سمجھا جا رہا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے شہریوں سے تعاون کی اپیل یہ ظاہر کرتی ہے کہ امن و امان کے قیام کے لیے حکومتی اور عوامی شراکت ضروری ہے۔

ضلع ایبٹ آباد میں نافذ پابندیاں ایک ماہ تک جاری رہیں گی اور اس دوران کسی بھی خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی تاکہ شہریوں کے تحفظ، معاشرتی ہم آہنگی اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔

رپورٹ: عبدالمومن

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button