
عمرکوٹ میں خواتین پر مبینہ تشدد کے واقعے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے فوری کارروائی کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ وزیر داخلہ کے احکامات کے تحت چھاپے پر جانے والے ڈی ایس پی سمیت تمام متعلقہ پولیس اہلکاروں کو معطل کر کے آئی جی آفس رپورٹ کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ اس اقدام کو صوبائی حکومت کی جانب سے واقعے پر سنجیدہ ردعمل اور شفاف احتساب کی یقین دہانی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
وزیر داخلہ نے واقعے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کے لیے سندھ پولیس کے تحت تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کر دی ہے۔ کمیٹی کی سربراہی ڈی آئی جی میرپورخاص کریں گے، جبکہ اس میں ایس ایس پی شہید بینظیر آباد اور ایس ایس پی نوشہرو فیروز بھی شامل ہوں گے۔ کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ میرٹ اور شفافیت کو یقینی بناتے ہوئے جلد از جلد رپورٹ پیش کرے تاکہ حقائق منظر عام پر آ سکیں اور ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے۔
وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے واضح کیا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے ساتھ کسی بھی قسم کی زیادتی یا بدسلوکی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور اگر کسی اہلکار نے اختیارات سے تجاوز کیا ہے تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ انصاف کا بول بالا ہوگا اور متاثرہ خواتین کو ہر صورت تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوام کے جان و مال اور عزت کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ وزیر داخلہ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ متاثرہ خاندانوں سے رابطے میں رہیں اور انہیں مکمل قانونی و سماجی معاونت فراہم کریں۔
واقعے کے بعد صوبے بھر میں خواتین کے تحفظ اور پولیس کے اختیارات کے درست استعمال سے متعلق بحث نے بھی زور پکڑ لیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے واقعات کی شفاف تحقیقات اور بروقت کارروائی سے نہ صرف متاثرین کو انصاف ملتا ہے بلکہ اداروں پر عوامی اعتماد بھی بحال ہوتا ہے۔ حکومت کی جانب سے تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل اور فوری معطلی کے احکامات کو اسی تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ترجمان محکمہ داخلہ و قانون سندھ سکندر بلوچ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت واقعے کی مکمل چھان بین کر کے ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لائے گی اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
رپورٹ: عبدالمومن



