قومی

محمد اسماعیل راہو کی زیر صدارت بینظیر بھٹو شہید ہیومن ریسورسز بورڈ کا اجلاس، لاکھوں نوجوانوں کی تربیت و روزگار پر بریفنگ

5 لاکھ سے زائد رجسٹریشن، ایک لاکھ 72 ہزار سے زائد نوجوان برسرِ روزگار — خواتین کی بڑی تعداد مستفید

وزیر جامعات سندھ محمد اسماعیل راہو کی زیر صدارت بینظیر بھٹو شہید ہیومن ریسورسز بورڈ کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیئرمین تمیز الدین کھیڑو، سیکریٹری منور علی مٹھانی اور دیگر افسران شریک ہوئے۔

 

اجلاس میں افسران نے صوبائی وزیر کو ادارے کی مجموعی کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ یہ ادارہ 2008 سے کام کر رہا ہے جبکہ 2013 میں سندھ اسمبلی سے بل کی منظوری کے بعد اسے باقاعدہ بورڈ کا درجہ دیا گیا۔

 

بریفنگ کے مطابق 2008 سے اب تک 5 لاکھ 40 ہزار 758 نوجوان رجسٹرڈ ہو چکے ہیں جبکہ 4 لاکھ 22 ہزار 701 نوجوان تربیت مکمل کر چکے ہیں جن میں سے 1 لاکھ 72 ہزار 44 نوجوان باقاعدہ روزگار حاصل کر چکے ہیں۔ وزیر جامعات نے بتایا کہ تقریباً 41 فیصد تربیت یافتہ نوجوان مختلف اداروں میں ملازمت کر رہے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ ادارہ دیہی و شہری علاقوں کے نوجوانوں کو فنی اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کر رہا ہے اور تربیت مکمل کرنے والوں کو صنعتی شعبے سے منسلک کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ادارے کا مقصد نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر باعزت روزگار کے قابل بنانا اور صوبے میں بے روزگاری کم کرنا ہے۔

 

محمد اسماعیل راہو نے مزید بتایا کہ سندھ حکومت اس ادارے کے ذریعے غریب اور مستحق نوجوانوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تربیت فراہم کر رہی ہے۔ 18 سے 35 سال عمر کے نوجوانوں کو داخلہ دیا جا رہا ہے جبکہ ہر ضلع کے لیے علیحدہ کوٹہ مقرر کیا گیا ہے تاکہ تمام علاقوں کو مساوی مواقع مل سکیں۔

 

انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت 5 ہزار مستحق خواتین کے بچوں کو مختلف اداروں میں مفت تربیت دی جا رہی ہے اور ہر تربیت حاصل کرنے والے نوجوان کو 2,500 روپے ماہانہ وظیفہ بھی دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق تربیت حاصل کرنے والوں میں خواتین کی تعداد نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

رپورٹ: عبدالمومن

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button