🇵🇰 غزہ میں امن کی کوششیں تیز: شہباز شریف اہم اجلاس کیلئے امریکا پہنچ گئے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر واشنگٹن میں ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے افتتاحی اجلاس میں شرکت، عالمی قیادت سے اہم ملاقاتیں متوقع

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف غزہ کی صورتحال اور خطے میں پائیدار امن کے قیام سے متعلق منعقد ہونے والے اہم اجلاس میں شرکت کیلئے امریکا پہنچ گئے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی باقاعدہ دعوت دی گئی تھی، جس کے بعد وہ 19 فروری کو واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے اجلاس میں شریک ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں مختلف ممالک کے سربراہانِ مملکت اور عالمی رہنما بھی شریک ہوں گے، جہاں غزہ کی موجودہ انسانی صورتحال، جنگ بندی کے امکانات اور مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔ پاکستان طویل عرصے سے مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور پائیدار حل کی حمایت کرتا آیا ہے، اور اسی تناظر میں وزیراعظم کی شرکت کو سفارتی سطح پر اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور دیگر اعلیٰ حکام بھی وزیراعظم کے ہمراہ وفد میں شامل ہیں۔ وفد کی موجودگی اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان اس اجلاس کو نہایت سنجیدگی سے لے رہا ہے اور وہ عالمی برادری کے ساتھ مل کر امن کے قیام کیلئے اپنا مؤثر کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔
دورے کے دوران وزیراعظم کی امریکی قیادت سمیت دیگر شریک عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ ان ملاقاتوں میں پاک امریکا تعلقات، باہمی تعاون، اقتصادی شراکت داری، علاقائی استحکام اور عالمی سلامتی کے امور زیر بحث آئیں گے۔ مبصرین کے مطابق یہ ملاقاتیں پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں نئی جہت پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر سیاسی و سکیورٹی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غزہ کی صورتحال نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، اور ایسے میں ’’بورڈ آف پیس‘‘ جیسے پلیٹ فارم کا قیام سفارتی کوششوں کو مربوط کرنے کی ایک اہم کوشش ہو سکتی ہے۔ پاکستان کی شرکت نہ صرف فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی ہے بلکہ عالمی سطح پر ذمہ دار اور فعال کردار ادا کرنے کی علامت بھی ہے۔
وزیراعظم کے اس دورے کو سفارتی سطح پر خاص اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ اس سے پاکستان کو عالمی فورمز پر اپنا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کرنے اور خطے میں امن کے لیے عملی تجاویز دینے کا موقع ملے گا۔ آنے والے دنوں میں ان ملاقاتوں اور اجلاس کے نتائج پر عالمی توجہ مرکوز رہے گی۔
رپورٹ: عبدالمومن


