ایبٹ آباد میں امید کی کرن — ڈپٹی کمشنر کا تھیلسیمیا سے متاثرہ بچوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار
ہاجرہ حمزہ تھیلسیمیا سنٹر کے دورے میں ہر ممکن سرکاری تعاون کی یقین دہانی، جدید سنٹر کے قیام پر بھی غور

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد میں ڈپٹی کمشنر سرمد سلیم اکرم نے ہاجرہ حمزہ فاؤنڈیشن کے زیرِ انتظام قائم ہاجرہ حمزہ تھیلسیمیا سنٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے تھیلسیمیا میں مبتلا بچوں اور ان کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اور ان کے مسائل سنے۔ دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے ننھے مریضوں کے ساتھ وقت گزارا، ان کی خیریت دریافت کی اور ان کے حوصلے اور عزم کو سراہا۔
ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ یہ بچے ہمارے معاشرے کے اصل ہیرو ہیں جو بیماری جیسے کڑے امتحان کے باوجود بہادری سے زندگی کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بچوں کی دیکھ بھال اور علاج صرف ایک طبی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرتی اور انسانی فریضہ بھی ہے، جس کی ادائیگی میں حکومت اور فلاحی اداروں کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔
اس موقع پر فاؤنڈیشن کے بانی چیئرمین میجر جنرل (ر) عابد لطیف خان کی خدمات کو سراہتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ فلاحی اداروں کی کاوشیں صحت کے شعبے میں ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سنٹر کو درپیش مسائل کے حل اور سہولیات کی بہتری کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا تاکہ بچوں کو معیاری علاج میسر آسکے۔
ڈپٹی کمشنر نے فاؤنڈیشن کے چیف آپریٹنگ آفیسر جواد اقبال تنولی اور دیگر عملے سے بھی ملاقات کی۔ انہیں تھیلسیمیا کے مریض بچوں کی رجسٹریشن، خون کی فراہمی، باقاعدہ اسکریننگ، اور علاج کے مراحل سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے سنٹر میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور نظم و ضبط کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے ادارے معاشرے میں خدمت، ہمدردی اور انسان دوستی کی روشن مثال ہیں۔
دورے کے دوران ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال ایبٹ آباد میں جدید طرز کے تھیلسیمیا سنٹر کے قیام کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس تجویز کا مقصد ضلع ایبٹ آباد اور گرد و نواح کے علاقوں میں تھیلسیمیا سے متاثرہ بچوں کو مزید بہتر، محفوظ اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ انہیں بڑے شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ صحت کے شعبے میں فلاحی اداروں کے ساتھ مل کر عوامی خدمت کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تھیلسیمیا سمیت دیگر امراض میں مبتلا مریضوں کے لیے سہولیات کی بہتری، آگاہی مہمات اور خون کے عطیات کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
انہوں نے مخیر حضرات اور عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ تھیلسیمیا کے مریض بچوں کی مدد کے لیے آگے آئیں، خون کے عطیات دیں اور ایسے اداروں کا ساتھ دیں تاکہ کوئی بچہ علاج سے محروم نہ رہے۔
رپورٹ: عبدالمومن


