قومی

سپریم کورٹ میں عمران خان کی جیل روزمرہ کی مصروفیات کی رپورٹ پیش

بیرسٹر سلمان صفدر نے ملاقات کے بعد سپریم کورٹ کو عمران خان کی سہولیات اور روزمرہ کی عادات کی تفصیلات فراہم کیں

سپریم کورٹ نے بیرسٹر سلمان صفدر کو ہدایت دی تھی کہ وہ عمران خان سے ملاقات کر کے جیل میں دی گئی سہولیات اور ان کی روزمرہ کی حالت کا جائزہ لیں اور عدالت میں رپورٹ جمع کرائیں۔ بیرسٹر سلمان نے منگل کو عمران خان سے ملاقات کی اور بدھ کو عدالت میں رپورٹ جمع کرادی۔ اس رپورٹ پر آج سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق، عمران خان کی روزانہ کی مصروفیات منظم اور مخصوص اوقات میں انجام دی جاتی ہیں۔ وہ صبح نو بج کر 45 منٹ پر ناشتہ کرتے ہیں اور تقریباً ساڑھے 11 بجے تک قرآن پاک کی تلاوت میں مشغول رہتے ہیں۔ اس کے بعد ورزش کا وقت ہوتا ہے جس کے لیے انہیں دستیاب سامان استعمال کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ ورزش کے سامان میں ایک ورزش کرنے والی سائیکل، نو کلو گرام کے دو ڈمبل اور ایک بار شامل ہے۔

دوپہر ایک بج کر 15 منٹ پر غسل کرنے کے بعد انہیں احاطے میں چہل قدمی کی اجازت دی جاتی ہے۔ دوپہر ساڑھے تین بجے سے چار بجے تک دوپہر کا کھانا پیش کیا جاتا ہے۔ شام کے پانچ بجے ایک اور چہل قدمی کا وقت دیا جاتا ہے، جس کے بعد شام ساڑھے پانچ بجے سے اگلی صبح 10 بجے تک عمران خان کو جیل کے سیل میں بند رکھا جاتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی ذکر ہے کہ جیل میں ان کے آرام اور عبادت کے اوقات منظم ہیں اور روزمرہ کی مصروفیات عدالت کی جانب سے فراہم کی گئی ہدایات کے مطابق ہوتی ہیں۔ یہ تفصیلات سپریم کورٹ کے لیے اہم ہیں تاکہ عدالت کو اندازہ ہو کہ قید کی شرائط انسانی اور مناسب ہیں اور قیدی کی سہولیات اور بنیادی ضروریات کا خیال رکھا جا رہا ہے۔

رپورٹ: عبدالمومن

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button