قومی

342 ارب روپے منجمد، ترقیاتی منصوبے متاثر

شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی وجہ سے فنڈز بلاک ہیں

صوبائی وزیر شرجیل میمن نے خبردار کیا ہے کہ مختلف عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی وجہ سے تقریباً 342 ارب روپے منجمد ہیں، جس کے باعث سندھ کے ترقیاتی منصوبے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ فنڈز بلاک ہونے سے نہ صرف موجودہ ترقیاتی کام رک گئے ہیں بلکہ نئے منصوبوں کا آغاز بھی تعطل کا شکار ہے۔

شرجیل میمن نے مزید بتایا کہ ان منجمد شدہ رقوم میں صوبائی ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص رقم بھی شامل ہے، جس میں سڑکوں، پلوں، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں جاری کام شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی سہولیات پر براہِ راست اثر پڑ رہا ہے اور ترقیاتی کاموں کی بروقت تکمیل ممکن نہیں ہو پا رہی۔

وزیر نے کہا کہ حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے متعلقہ حکام اور عدالتی اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ جلد از جلد فنڈز کی بازیابی ممکن ہو سکے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ حکومت کے اقدامات پر اعتماد رکھیں اور یقین رکھیں کہ یہ رکاوٹیں جلد دور کر دی جائیں گی۔

شرجیل میمن نے مزید کہا کہ فنڈز کی منجمد صورتحال کی وجہ سے کئی اہم ترقیاتی منصوبے جن میں تعلیمی اداروں کی تعمیر، ہسپتالوں کی اپگریڈیشن اور سڑکوں کی بحالی شامل ہیں، یا تو معطل ہیں یا سست روی کا شکار ہیں۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ جیسے ہی رقوم کی رہائی ممکن ہوگی، تمام ترقیاتی کام تیزی سے دوبارہ شروع کر دیے جائیں گے تاکہ عوام کو دیرپا فائدہ پہنچے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت اور معیار کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور عوام کی سہولت کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے جا رہے ہیں۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button