صوبوں کا مالی ڈسپلن بہتر، مرکز کو 1180 ارب روپے سرپلس منتقل
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے ریمارکس—بغیر نوٹس ملاقات کا حکم نہیں دے سکتے، پہلے درخواست کی قابلِ سماعت حیثیت طے ہوگی

ملک میں ریونیو ٹو جی ڈی پی شرح میں مسلسل کمی اور ٹیکس اصلاحات کے سست اثرات کے باوجود چاروں صوبے رواں مالی سال 2025-26 کے پہلے چھ ماہ میں مرکز کو کیش سرپلس فراہم کرنے کے آئی ایم ایف کے مقررہ ہدف کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری مالیاتی آپریشنز کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے دسمبر 2025 کے دوران صوبوں نے مجموعی طور پر ایک ہزار 180 ارب روپے وفاق کو منتقل کیے، جو مالی نظم و ضبط میں نمایاں بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔
یہ پیش رفت آئی ایم ایف کے سات ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام (EFF) کے تحت طے کردہ سالانہ ہدف ایک ہزار 464 ارب روپے سے صرف 285 ارب روپے کم ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق پہلے چھ ماہ میں ہدف کے اتنے قریب پہنچ جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبائی حکومتوں نے اخراجات پر نسبتاً بہتر کنٹرول رکھا اور غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی لانے کی کوشش کی۔
گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں صوبوں نے مجموعی طور پر 775 ارب روپے کا سرپلس دیا تھا جو اس وقت کے مقررہ ہدف ایک ہزار 200 ارب روپے سے تقریباً 50 فیصد کم تھا۔ اس کے مقابلے میں موجودہ مالی سال کی کارکردگی کہیں زیادہ مستحکم اور حوصلہ افزا قرار دی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مالیاتی ہم آہنگی اور وفاق و صوبوں کے درمیان بہتر رابطہ کاری کے باعث یہ نتیجہ ممکن ہوا۔
تاہم تصویر کا دوسرا رخ اب بھی تشویش ناک ہے۔ ریونیو ٹو جی ڈی پی شرح میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ ٹیکس نیٹ میں وسعت اور محصولات میں اضافہ اب تک مطلوبہ رفتار حاصل نہیں کر سکا۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ صوبائی سرپلس نے وفاقی بجٹ خسارے کو سنبھالنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن مستقل بنیادوں پر معاشی استحکام کے لیے ٹیکس اصلاحات، دستاویزی معیشت اور محصولات کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں ناگزیر ہیں۔
حکومت کے لیے آئندہ مہینے اس لیے بھی اہم ہیں کہ آئی ایم ایف پروگرام کی اگلی جائزہ شرائط میں مالی اہداف کی سختی سے نگرانی کی جائے گی۔ اگر صوبے اسی رفتار کو برقرار رکھتے ہیں تو سال کے اختتام تک ہدف کا حصول ممکن ہو سکتا ہے، لیکن ترقیاتی اخراجات میں توازن اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو متاثر کیے بغیر سرپلس برقرار رکھنا ایک بڑا امتحان ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صوبائی سطح پر ٹیکس وصولی کے نئے ذرائع تلاش کرنا، زرعی اور خدمات کے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا اور غیر ضروری سبسڈیز میں کمی لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بصورت دیگر محض اخراجات روک کر سرپلس حاصل کرنا عارضی حل ثابت ہوگا۔ مجموعی طور پر موجودہ اعداد و شمار معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ضرور ہیں، مگر پائیدار بہتری کے لیے گورننس اور ٹیکس اصلاحات کی رفتار تیز کرنا ہوگی۔



