قومی

بسنت میں لاہور صحافی زین ملک کی چھت سے گر کر موت، شہر میں بسنت سے وابستہ اموات 5 تک پہنچ گئیں

بسنت فیسٹیول کے دوران لاہور میں پیش آنے والے واقعات میں متعدد افراد جان کی بازی ہار گئے، جہاں 25 سالہ علی رشید کے علاوہ مزید چار افراد کی اموات رپورٹ ہوئیں۔

لاہور میں رواں سال 2026 کا بسنت فیسٹیول ایک خوشی اور رنگینی کے ساتھ شروع ہوا، لیکن منگل کے روز اسے ایک افسوسناک واقعہ نے تاریک کر دیا جب مقامی صحافی زین ملک چھت سے گر کر زندگی کی بازی ہار گئے۔ زین ملک ساندہ کے رہائشی تھے اور لاہور کے مختلف چینلز میں رپورٹر اور سپورٹس رپورٹر کے طور پر کام کرتے رہے ہیں، ان میں آپ نیوز اور جی این این شامل ہیں۔ وہ سابق صدر لاہور پریس کلب میاں شہباز کے کزن بھی تھے۔ حادثے کے فوراً بعد زخمی حالت میں انہیں میاں منشی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ زخموں کے باوجود بچ نہ سکے۔

بسنت فیسٹیول کی سرگرمیاں 6 تا 8 فروری تک جاری تھیں، جسے پنجاب حکومت نے 18 سال کے بعد دوبارہ لاہور میں منانے کی اجازت دی تھی۔ جشن کی واپسی نے شہر کے متعدد علاقوں کی چھتوں اور آسمانوں کو رنگین پتنگوں سے بھر دیا تھا، تاہم تیز ڈور اور اونچی چھتوں پر جانا جیسے روایتی رجحانات نے سنگین حادثات بھی سامنے لائے۔

زین ملک کے علاوہ، دیگر اموات بھی بسنت فیسٹیول کے دوران رپورٹ ہوئیں، جن کی تعداد اب مجموعی طور پر 5 ہو گئی ہے۔ ان میں سب سے پہلے 25 سالہ علی رشید شامل تھے، جو سکھ نہر کے قریب بجلی کے کھمبے پر چڑھ کر کٹی ہوئی پتنگ کو نیچے لانے کی کوشش میں بجلی لگا کر جاں بحق ہوئے۔

اسی دوران سعد نامی ایک 35 سالہ شخص بھی بسنت کی خوشی مناتے ہوئے چھت سے گر کر ہلاک ہوا۔ حکام کے مطابق وہ بھی پتنگ بازی کے دوران چھت سے نیچے گر گیا، جس کے نتیجے میں شدید چوٹیں آئیں اور وہ زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔

تیسری موت فہد علی کے حوالے سے رپورٹ کی گئی، جو دفاع کے علاقے میں ڈور کو پکڑنے کی کوشش میں بیلنس کھو بیٹھا اور نیچے گرا۔ شدید چوٹوں کے باعث وہ اسپتال پہنچنے سے قبل ہی جاں بحق ہو گیا۔ اسی حادثے میں کئی دیگر افراد زخمی بھی ہوئے، جنہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی۔

چوتھا مقتول کامران شوکت تھا، جو شہر کے ایک پبلک اسکوائر پر پتنگ بازی میں حصہ لے رہا تھا جب اچانک حادثاتی طور پر اونچی جگہ سے گر کر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اس واقعے نے بھی بسنت کی روایتی ڈور اور خطرناک واقعات کے حوالے سے عوامی تشویش کو بڑھا دیا۔ حکام نے بار بار عوام سے اپیل کی کہ وہ پتنگ اور ڈور کے استعمال میں احتیاط اختیار کریں، اور چھتوں پر خصوصاً بچوں اور نوجوانوں کو بلا وجہ نہ آنے دیں۔

بسنت 2026 کی ان اموات نے ایک بار پھر سہولیات اور حفاظتی اقدامات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اگرچہ حکومت نے پتنگوں اور ڈور پر سخت قواعد و ضوابط لاگو کیے ہیں اور سڑکوں پر سیکیورٹی فورسز تعینات کی ہیں، لیکن حادثات کی یہ لہر بتاتی ہے کہ عوامی شعور اور احتیاط بیحد ضروری ہے تاکہ مزارات، تہوار اور روایتی تقریبات میں شامل ہونے والے لوگ محفوظ رہ سکیں۔

بسنت کی واپسی نے خوشیوں کے ساتھ ساتھ زندگیوں پر بھی گہرا اثر ڈالا، اور اب شہر بھر میں حفاظتی اقدامات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button