عالمیقومی

🔥 بلوچستان میں بڑا کریک ڈاؤن: 48 گھنٹوں میں 177 عسکریت پسند ہلاک، ملک بھر میں گونج

بی ایل اے کے مربوط حملوں کے بعد وسیع آپریشن، سکیورٹی فورسز اور شہریوں کی شہادتوں پر قومی تشویش

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حالیہ دنوں ہونے والی پرتشدد کارروائیوں کے بعد سکیورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر انسدادِ دہشت گردی آپریشن کرتے ہوئے 48 گھنٹوں کے دوران 177 عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکومتی اور عسکری حکام کے مطابق یہ کارروائیاں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے مربوط حملوں کے جواب میں کی گئیں جن میں درجنوں شہری اور سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔

بلوچستان جو رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، ایک عرصے سے علیحدگی پسند شورش اور بدامنی کا شکار رہا ہے۔ حالیہ واقعات کو گزشتہ کئی برسوں کی سب سے شدید لہر قرار دیا جا رہا ہے جس نے قومی سلامتی کے حلقوں میں خطرے کی نئی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔

مربوط حملے اور ریاستی ردِعمل

سرکاری بیانات کے مطابق ہفتے کی علی الصبح بی ایل اے سے منسلک مسلح گروہوں نے بیک وقت متعدد اضلاع میں پولیس تھانوں، سرکاری عمارتوں، شاہراہوں اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں خودکش بمباروں، بارودی سرنگوں اور جدید ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا جس سے ابتدائی طور پر سکیورٹی نظام شدید دباؤ کا شکار ہوا۔

حملوں کے فوری بعد پاک فوج، فرنٹیئر کور اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ آپریشن کا آغاز کیا۔ کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، پنجگور، تربت، گوادر اور دیگر علاقوں میں زمینی و فضائی کارروائیاں کی گئیں۔ حکام کے مطابق ان آپریشنز کے نتیجے میں بڑی تعداد میں عسکریت پسند مارے گئے جبکہ ان کے ٹھکانے، اسلحہ ڈپو اور مواصلاتی نیٹ ورک بھی تباہ کر دیے گئے۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ اتنے مختصر وقت میں اتنی بڑی تعداد میں دہشت گردوں کا خاتمہ ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بلوچستان کا وسیع اور دشوار گزار جغرافیہ آپریشنز کو مشکل بنا دیتا ہے اور دشمن اس کا فائدہ اٹھاتا ہے۔

شہری اور سکیورٹی نقصانات

اس خونریز لہر میں سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو اٹھانا پڑا۔ مختلف اضلاع میں گھروں پر حملوں، سڑک کنارے بم دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد جاں بحق ہوئے۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ رہی جبکہ زخمیوں کی بڑی تعداد کو فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بڑے شہروں میں منتقل کیا گیا۔

شہری حلقوں کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ معصوم آبادی کے تحفظ کے لیے مؤثر حکمت عملی بنائی جائے۔ کئی علاقوں میں خوف و ہراس کے باعث کاروبار زندگی معطل رہا اور تعلیمی ادارے بھی بند کر دیے گئے۔

بی ایل اے کا مؤقف اور حکومتی بیانیہ

کالعدم بی ایل اے نے میڈیا چینلز پر جاری بیانات میں ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی اور اسے اپنی “مزاحمتی جدوجہد“ کا حصہ قرار دیا۔ تنظیم نے بعض مقامات پر خواتین جنگجوؤں کی شمولیت کا دعویٰ بھی کیا، جس نے سکیورٹی اداروں کے لیے نئی پیچیدگیاں پیدا کر دی ہیں۔

حکومت پاکستان نے اس مؤقف کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ خالصتاً دہشت گردی ہے جس کا مقصد ریاست کو کمزور کرنا اور ترقیاتی منصوبوں کو سبوتاژ کرنا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے الزام عائد کیا کہ ان عناصر کو بیرونی قوتوں کی سرپرستی حاصل ہے جو پاکستان میں عدم استحکام چاہتی ہیں۔

سیاسی و عوامی ردِعمل

واقعے کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ میں شدید بحث ہوئی۔ حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے متفقہ طور پر دہشت گردی کی مذمت کی اور شہداء کے خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ کئی رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ صرف فوجی طاقت کے بجائے سیاسی مکالمہ، ترقی اور روزگار کے مواقع بھی حکمت عملی کا حصہ بنائے جائیں۔

بلوچستان کے مقامی عمائدین نے بھی قیامِ امن کے لیے قبائلی سطح پر کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلسل بدامنی نے صوبے کی معیشت، تعلیم اور سماجی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے۔

پس منظر: دیرینہ شورش کی کہانی

بلوچستان میں شورش کی جڑیں کئی دہائیوں پر پھیلی ہوئی ہیں۔ وسائل کی تقسیم، سیاسی نمائندگی اور احساسِ محرومی جیسے مسائل نے علیحدگی پسند رجحانات کو جنم دیا۔ ماضی میں بھی گیس پائپ لائنوں، ریلوے ٹریکس اور چینی منصوبوں پر حملے ہوتے رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق صرف عسکری کارروائیاں اس مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ صوبے میں تعلیم، صحت، مقامی روزگار اور سیاسی شمولیت کو فروغ دینا ناگزیر ہے تاکہ نوجوانوں کو شدت پسندی سے دور رکھا جا سکے۔

آگے کا لائحہ عمل

حکومت نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک آخری دہشت گرد کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ ساتھ ہی متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی امداد اور بحالی پیکیج کا بھی وعدہ کیا گیا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ کارروائیوں نے عسکریت پسندوں کی کمر توڑ دی ہے لیکن اصل امتحان امن کو دیرپا بنانے کا ہے۔ اس کے لیے قومی سطح پر سیاسی اتفاقِ رائے، شفاف حکمرانی اور بلوچستان کی حقیقی ترقی بنیادی شرائط ہیں۔

فی الحال صوبے میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے، چیک پوسٹوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مزید متحرک کر دیا گیا ہے۔ قوم امید کر رہی ہے کہ یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور بلوچستان ایک بار پھر امن اور ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button