ڈرائیونگ لائسنس کے نئے قواعد 2026 نافذ: کیا بدلا، کن پر اطلاق ہوگا اور ڈرائیورز کو کیا کرنا ہوگا؟
حکومت نے روڈ سیفٹی بہتر بنانے کے لیے لائسنس کے اجرا، تجدید اور ٹیسٹنگ نظام میں بڑی اصلاحات متعارف کرا دیں، خلاف ورزی پر سخت جرمانے ہوں گے۔

حکومتِ پاکستان نے ٹریفک کے بڑھتے ہوئے حادثات اور غیر تربیت یافتہ ڈرائیورز کے مسئلے کو مدِنظر رکھتے ہوئے ڈرائیونگ لائسنس کے نئے قواعد 2026 جاری کر دیے ہیں۔ ان قوانین کا مقصد سڑکوں کو محفوظ بنانا، لائسنسنگ کے عمل کو شفاف کرنا اور جدید عالمی معیار کے مطابق ڈرائیورز کی تربیت یقینی بنانا ہے۔ نئے ضوابط ملک بھر میں مرحلہ وار نافذ ہوں گے اور تمام صوبوں کے لائسنسنگ حکام کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
نئے نظام کے تحت لائسنس کے حصول کے لیے عمر کی کم از کم حد 18 سال برقرار رکھی گئی ہے، تاہم اب امیدوار کے لیے باقاعدہ “روڈ سیفٹی کورس‘‘ مکمل کرنا لازمی ہوگا۔ یہ کورس آن لائن اور منظور شدہ ڈرائیونگ اسکولوں کے ذریعے کرایا جائے گا جس میں ٹریفک قوانین، ابتدائی طبی امداد اور ہنگامی صورتحال میں گاڑی کنٹرول کرنے کی تربیت شامل ہوگی۔ کورس مکمل کیے بغیر ٹیسٹ میں شرکت ممکن نہیں ہوگی۔
عملی اور تحریری ٹیسٹ کے طریقۂ کار میں بھی نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ تحریری امتحان کمپیوٹرائزڈ ہوگا جس میں کم از کم 70 فیصد نمبر حاصل کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ عملی ٹیسٹ میں اب صرف گاڑی چلانا کافی نہیں ہوگا بلکہ پارکنگ، لین ڈسپلن، ایمرجنسی بریک اور رات کے وقت ڈرائیونگ کی صلاحیت بھی جانچی جائے گی۔ حکام کے مطابق اس سے جعلی لائسنس کے اجرا کی روک تھام ہوگی۔
2026 کے قواعد کے مطابق تمام پرانے لائسنسوں کی تجدید بائیو میٹرک تصدیق سے مشروط کر دی گئی ہے۔ جن ڈرائیورز کے لائسنس 2018 سے پہلے کے بنے ہوئے ہیں، انہیں ایک سال کے اندر دوبارہ ٹیسٹ دینا ہوگا۔ ہیوی ٹریفک اور کمرشل گاڑیوں کے ڈرائیورز کے لیے ہر دو سال بعد ریفریشر کورس لازم قرار دیا گیا ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں لائسنس معطل یا منسوخ بھی کیا جا سکے گا۔
نئے قوانین میں پوائنٹ سسٹم بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ سگنل توڑنے، اوور اسپیڈنگ، موبائل فون استعمال کرنے اور بغیر سیٹ بیلٹ ڈرائیونگ پر منفی پوائنٹس لگیں گے۔ حد سے زیادہ پوائنٹس جمع ہونے پر لائسنس خودکار طور پر معطل ہو جائے گا اور ڈرائیور کو دوبارہ تربیتی عمل سے گزرنا پڑے گا۔ جرمانوں کی شرح میں بھی اضافہ کیا گیا ہے تاکہ قانون کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔
خواتین اور معذور افراد کے لیے خصوصی سہولتیں رکھی گئی ہیں۔ بڑے شہروں میں علیحدہ ٹیسٹنگ ڈیسک اور آسان رسائی والے مراکز قائم کیے جائیں گے۔ اسی طرح آن لائن اپائنٹمنٹ، فیس کی ڈیجیٹل ادائیگی اور لائسنس کی ہوم ڈلیوری کی سہولت بھی نئے نظام کا حصہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات سے وقتی طور پر لائسنس کا حصول مشکل محسوس ہوگا لیکن طویل مدت میں اس کے مثبت اثرات سامنے آئیں گے۔ پاکستان میں ہر سال ہزاروں قیمتی جانیں ٹریفک حادثات کی نذر ہو جاتی ہیں جن کی بڑی وجہ غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ ہے۔ حکومت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ نئے قواعد پر عمل کریں، بروقت اپنی دستاویزات اپ ڈیٹ کرائیں اور سڑکوں پر ذمہ دار رویہ اپنائیں تاکہ محفوظ ٹریفک کلچر کو فروغ دیا جا سکے۔



