قومی

مضبوط عدالتی نظام اور مؤثر متبادل تنازعاتی حل کے نظام کا باہمی اشتراک ناگزیر ہے: جسٹس شاہد وحید

وزارتِ قانون و انصاف کے تحت قائم انٹرنیشنل میڈی ایشن اینڈ آربیٹریشن سینٹر (IMAC) نے آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن آربیٹریشن سینٹر (OIC-AC)، ترکیہ کے اشتراک سے COMSTECH، اسلام آباد میں “متبادل تنازعاتی حل (ADR) کے ذریعے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط بنانا” کے موضوع پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا۔

کانفرنس کے مہمانِ خصوصی جسٹس شاہد وحید، جج سپریم کورٹ آف پاکستان تھے، جبکہ بلا ل اظہر کیانی، وزیرِ مملکت برائے خزانہ و ریلوے نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر اعلیٰ سرکاری حکام، بین الاقوامی ماہرین، قانونی ماہرین اور کاروباری برادری کے نمائندگان موجود تھے۔

کانفرنس میں ابھرتی ہوئی معیشتوں خصوصاً پاکستان میں تجارتی اور سرمایہ کاری تنازعات کے حل کے لیے ثالثی اور مصالحت کو مؤثر، شفاف اور سرمایہ کار دوست طریقہ کار قرار دیا گیا۔ مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ مؤثر تنازعاتی حل کا نظام قانونی یقینیّت، مقدمات کے خطرات میں کمی اور کاروبار میں آسانی کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔

جسٹس شاہد وحید نے اپنے خطاب میں کہا کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد کسی بھی ملک کے عدالتی نظام کی کارکردگی، پیش بینی اور ساکھ سے براہِ راست جڑا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بروقت اور مؤثر تنازعاتی حل ایک اہم معاشی اثاثہ ہے اور متبادل تنازعاتی حل جدید عدالتی نظام کا بنیادی ستون بن چکا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک خصوصی میڈی ایشن سینٹر قائم کیا جا رہا ہے اور اہم تجارتی مقدمات، خصوصاً وہ مقدمات جو سرکاری محصولات اور سرمایہ کاروں کے اعتماد سے متعلق ہیں، کے لیے ترجیحی سماعت اور فاسٹ ٹریک نظام متعارف کرایا گیا ہے۔

جسٹس شاہد وحید نے زور دیا کہ مضبوط عدالتیں اور مؤثر ADR نظام ایک دوسرے کے تکملہ ہیں اور پاکستان کے معاشی و انتظامی اہداف کے حصول کے لیے ناگزیر ہیں۔

وزیرِ مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلا ل اظہر کیانی نے بالخصوص ٹیکس اور ریونیو معاملات میں مؤثر تنازعاتی حل کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں مجوزہ ترامیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکس ADR کمیٹیوں کی تشکیل میں اصلاحات پاکستان کے مجموعی ADR نظام کو مضبوط بنانے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

ڈاکٹر عمر اے اوسینی، سیکریٹری جنرل، او آئی سی آربیٹریشن سینٹر نے او آئی سی رکن ممالک میں ADR کے اسٹریٹجک کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مؤثر متبادل تنازعاتی حل سرحد پار تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے پاکستان سمیت دیگر رکن ممالک میں جدید، ہم آہنگ اور بین الاقوامی معیار کے ثالثی و مصالحتی اداروں کے قیام کے لیے او آئی سی-اے سی کے مکمل تعاون کا اعادہ کیا۔

ڈاکٹر محمد جہانزیب خان نے سرمایہ کاروں کو درپیش تنازعاتی مسائل، جن میں معیاری سرکاری معاہدوں کی کمی اور خصوصی قانونی و تکنیکی مہارت کی ضرورت شامل ہے، کی نشاندہی کی۔ انہوں نے IMAC کے قیام کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

راجہ نعیم اکبر، وفاقی سیکریٹری، وزارتِ قانون و انصاف نے کہا کہ پاکستان معاشی ترقی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اپنے ADR نظام کو فعال طور پر مضبوط بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد قابلِ اعتبار، مؤثر اور قابلِ نفاذ تنازعاتی حل کے نظام سے وابستہ ہے اور IMAC بین الاقوامی بہترین عملی معیار کے مطابق پاکستان کے ثالثی و مصالحتی نظام کو ہم آہنگ بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

محترمہ عائشہ رسول، سینئر کنسلٹنٹ اور پراجیکٹ ڈائریکٹر، IMAC نے کہا کہ یہ کانفرنس پاکستان میں سرمایہ کار دوست اور قابلِ اعتماد ADR نظام کے قیام کے لیے IMAC کے عزم کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ IMAC بین الاقوامی معیار پر مبنی ثالثی و مصالحتی طریقہ کار کے فروغ، مقامی صلاحیتوں میں اضافے اور عالمی شراکت داری کے ذریعے ایک مؤثر ادارہ جاتی پلیٹ فارم فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

کانفرنس کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ متبادل تنازعاتی حل کو سرمایہ کاروں کے اعتماد، قانونی یقینیّت اور پائیدار معاشی ترقی کے فروغ کے لیے ایک اسٹریٹجک ذریعہ کے طور پر آگے بڑھایا جائے گا، جبکہ IMAC اور OIC-AC کے درمیان استعداد کار میں اضافے، علم کے تبادلے اور ادارہ جاتی ترقی کے لیے تعاون کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button