حکومت اور وزیراعظم سنجیدہ مذاکرات کیلئے تیار ہیں، سیاست کو سیاسی انداز میں ہونا چاہئے: ڈاکٹر طارق فضل چوہدری
وفاقی وزیر پارلیمانی امور کا قومی اسمبلی میں خطاب، اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے مثبت مؤقف کا خیرمقدم

وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت اور وزیراعظم سنجیدہ مذاکرات کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں اور سیاست کو سیاسی انداز میں ہی ہونا چاہئے۔ انہوں نے یہ بات پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی کا اپوزیشن لیڈر نامزد ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایوان کی مضبوطی سے متعلق ان کے مؤقف کا حکومت خیرمقدم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی جانب سے اچھے اقدامات پر حکومت کا ساتھ دینے کا جذبہ موجودہ اسمبلی میں ایک مثبت پیش رفت ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز ایک زیرک سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں جن کی اولین ترجیح ہمیشہ پاکستان کے مسائل کا حل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف پہلے بھی اپوزیشن بنچز پر جا کر مذاکرات کی پیشکش کر چکے ہیں اور اب بھی حکومت سنجیدہ بات چیت کیلئے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے سیاستدانوں کے اپنے رویوں کی وجہ سے سیاسی گنجائش محدود ہو گئی ہے۔ سیاست اور اپوزیشن کے نام پر ملک اور اس کے اداروں کے خلاف ایسے بیانیے بنائے جاتے ہیں جن کا دفاع خود ان کی جماعتیں بھی نہیں کر سکتیں۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ بلوچستان میں امن کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے بھی سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، اس معاملے میں دوہرا معیار نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کے ذریعے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہو سکا، اس لئے قانون نافذ کرنے والے ادارے امن و امان کی بحالی کو ہر صورت یقینی بنائیں گے۔



