پاکستان کے سفارتخانے پیرس میں وادیٔ سندھ کی تہذیب پر علمی سیمینار
فرانسیسی ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے چانھو دارو پر دس سالہ تحقیق اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے جڑی بصیرت پیش کی

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں پاکستان کے سفارتخانے نے پاکستان کی پانچ ہزار سال قدیم وادیٔ سندھ کی تہذیب پر ایک علمی و تحقیقی سیمینار کا انعقاد کیا، جس میں فرانسیسی آثارِ قدیمہ مشن برائے وادیٔ سندھ کی ڈائریکٹر ڈاکٹر اورور دیدیے نے خصوصی خطاب کیا۔
اس تقریب میں یونیسکو ورلڈ ہیریٹیج سینٹر، آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک، ماہرینِ آثارِ قدیمہ، مؤرخین، محققین اور سفارتی برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔ سیمینار کا انعقاد ’’سرکل دے امی دو پاکستان‘‘ کے تعاون سے کیا گیا۔
ڈاکٹر اورور دیدیے نے پاکستان میں فرانسیسی ماہرین کی جانب سے کی جانے والی آثارِ قدیمہ کی کھدائیوں کی تاریخ پر روشنی ڈالی اور وادیٔ سندھ کی اہم تاریخی جگہ چانھو دارو میں دس سالہ تحقیق کے تازہ نتائج پیش کیے۔ انہوں نے بتایا کہ قدیم ادوار میں آبادیوں نے دریا کے بہاؤ اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے مطابق خود کو کیسے ڈھالا، جو آج جنوبی ایشیا کو درپیش موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کو سمجھنے میں نہایت اہم رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرانس میں پاکستان کی سفیر محترمہ ممتاز زہرہ بلوچ نے آثارِ قدیمہ کے شعبے میں پاکستان اور فرانس کے درمیان ستر سالہ تعاون کو سراہا۔ انہوں نے وادیٔ سندھ کی تہذیب پر تحقیق اور مقامی محققین و کمیونٹیز کی صلاحیت سازی میں فرانسیسی آثارِ قدیمہ مشن کی خدمات کو قابلِ تحسین قرار دیا۔
سفیرِ پاکستان نے ’’سرکل دے امی دو پاکستان‘‘ کی جانب سے پاکستان کی ثقافتی ورثے، تنوع اور تاریخی عظمت کو اجاگر کرنے کی کوششوں پر بھی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔


