قومی

پاکستان نے چینی زرعی سرمایہ کاروں کے لیے دروازے مزید کھول دیے، 10 اہم شعبوں میں بھاری سرمایہ کاری متوقع

وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کا پاکستان–چین سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب، زراعت اور غذائی تحفظ میں مشترکہ ترقی پر زور

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان چین کے ساتھ اسٹریٹجک معاشی شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے، بالخصوص زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں چینی سرمایہ کاروں کے لیے ایک سازگار، شفاف اور سرمایہ کار دوست ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔

پاکستان–چین سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق چینی سرمایہ کاروں کی مکمل معاونت کرے گی، جس میں ریگولیٹری معاملات میں سہولت، حکومتی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری اور سرمایہ کاری کے تمام مراحل میں رہنمائی شامل ہے۔

رانا تنویر حسین نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف سرمایہ کاری حاصل کرنا نہیں بلکہ پاکستان کو ایسا شراکت دار بنانا ہے جہاں چینی کمپنیاں پاکستانی اداروں کے ساتھ مل کر ترقی کریں، جدت لائیں اور دیرپا کامیابی حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین مل کر زرعی ٹیکنالوجی میں انقلاب لا سکتے ہیں، غذائی تحفظ کو مضبوط بنا سکتے ہیں اور خطے کے معاشی مستقبل کو نئی سمت دے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس محض ایک سرمایہ کاری فورم نہیں بلکہ پاکستان اور چین کی آزمودہ دوستی کی تجدید ہے۔ “پاکستان اور چین صرف اسٹریٹجک شراکت دار نہیں بلکہ آہنی بھائی ہیں،” وفاقی وزیر نے کہا۔

دوطرفہ تجارتی تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2024–25 کے دوران پاکستان کی چین کو برآمدات تقریباً 2.38 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ درآمدات 16.3 ارب ڈالر رہیں، جو عالمی معاشی دباؤ کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی روابط کا ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین–پاکستان آزاد تجارتی معاہدہ دونوں ممالک کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سی پیک کے پہلے مرحلے کی تکمیل اور دوسرے مرحلے کے آغاز سے صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی کی منتقلی، قابلِ تجدید توانائی اور عوامی فلاح پر مبنی منصوبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ستمبر 2025 میں 41 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، جن میں جدید کاشتکاری، لائیو اسٹاک، ماہی گیری، زرعی مشینری اور جدید ٹیکنالوجی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں 119 چینی اور 191 پاکستانی کمپنیوں نے شرکت کی، جو نجی شعبے کی گہری دلچسپی کا مظہر ہے۔ ان کے مطابق 10 اہم شعبوں میں لاکھوں ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے، جن میں زراعت، فوڈ پروسیسنگ، لائیو اسٹاک، ماہی گیری، زرعی مداخل، زرعی مشینری، قابلِ تجدید توانائی، لاجسٹکس، ٹیکنالوجی اور ویلیو ایڈیڈ برآمدات شامل ہیں۔

اس موقع پر سیکریٹری وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق سیف انجم نے کہا کہ پاکستان کا زرعی شعبہ سی پیک مرحلہ دوم کے تحت وسیع سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کم پیداوار اور فصل کے بعد نقصانات جیسے چیلنجز درحقیقت ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ منصوبوں کے مواقع بھی ہیں۔

بورڈ آف انویسٹمنٹ کی ایڈیشنل سیکریٹری عرفہ اقبال نے کہا کہ حکومت سرمایہ کار دوست اصلاحات کے ذریعے پاکستان کو غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش منزل بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے ذریعے سرمایہ کاروں کو مکمل سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button