
وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف تین روزہ سرکاری دورے پر مراکش پہنچ گئے، جہاں کاسابلانکا ایئرپورٹ پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ مراکش کی فوج کے کمانڈر میجر جنرل احمد حطوطو، اعلیٰ سرکاری حکام اور مراکش میں پاکستان کے سفیر سید عادل گیلانی نے وزیرِ دفاع کا استقبال کیا۔
ذرائع کے مطابق اس دورے کے دوران پاکستان اور مراکش کے درمیان دفاعی تعاون کے فروغ کے لیے ایک اہم مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے جائیں گے، جو دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف مراکش کے وزیرِ مملکت برائے قومی دفاعی انتظامیہ عبداللطیف لودی سے ملاقات کریں گے، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی کی صورتحال اور دفاعی شعبے میں تعاون کے نئے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
دورے کے دوران وفود کی سطح پر مذاکرات بھی ہوں گے، جن میں دفاعی تربیت، عسکری تعاون، تجربات کے تبادلے اور مشترکہ منصوبوں پر بات چیت متوقع ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان اور مراکش کے درمیان دفاعی تعلقات میں یہ دورہ سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
وزیرِ دفاع کے اس دورے کا مقصد نہ صرف دوطرفہ دفاعی تعلقات کو فروغ دینا ہے بلکہ مسلم دنیا میں دفاعی تعاون اور ہم آہنگی کو بھی مزید مستحکم کرنا ہے۔ پاکستان اور مراکش کے درمیان دوستانہ تعلقات پہلے ہی مختلف شعبوں میں موجود ہیں، تاہم دفاعی تعاون کو باقاعدہ فریم ورک کے تحت وسعت دینا دونوں ممالک کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد مستقبل میں مشترکہ دفاعی اقدامات، مشاورت اور تعاون کے نئے دروازے کھلیں گے، جو خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی معاون ثابت ہوں گے۔
وفاقی وزیرِ دفاع کا یہ دورہ پاکستان کی فعال خارجہ اور دفاعی پالیسی کا عکاس ہے۔



