عالمی عدالت نے میانمار میں روہنگیا نسل کشی کے مقدمے کی سماعت شروع کر دی
بین الاقوامی عدالت انصاف میں میانمار کے خلاف تاریخی مقدمہ، روہنگیا پناہ گزینوں کو انصاف کی امید

دنیا کی سب سے بڑی بین الاقوامی عدالت، بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف نسل کشی کے الزامات پر ایک تاریخی مقدمہ کی سماعت شروع کر دی ہے۔ یہ مقدمہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں ICJ کی پہلی مکمل نسل کشی کی سماعت ہے اور اس کے فیصلے کے عالمی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
مقدمہ گامبیا کی جانب سے دائر کیا گیا، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ میانمار کی فوج نے جان بوجھ کر روہنگیا کمیونٹی کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔ عدالت کی سماعت میں گامبیا کے وزیر انصاف داؤڈا جالو نے کہا کہ “یہ مقدمہ محض قانونی مسائل پر نہیں، بلکہ حقیقی لوگوں، حقیقی کہانیوں اور حقیقی انسانوں کے لیے ہے۔ روہنگیا کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔”
میانمار کی فوج نے 2017 میں ایک وسیع آپریشن شروع کیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 750,000 روہنگیا اپنے گھروں سے نکل کر بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ پناہ گزینوں نے قتل، اجتماعی زیادتی، اور دیہات جلانے جیسے مظالم کی تفصیل بیان کی۔ اس دوران عالمی تحقیقاتی مشن نے کہا کہ یہ “نسل کشی کے اعمال” تھے، لیکن میانمار کی حکومت نے ان الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ فوجی کارروائی دہشت گردی کے خلاف جائز تھی۔
مقدمے کی اہمیت
یہ مقدمہ عالمی سطح پر نسل کشی کے تعاریف اور ان کے قانونی اقدامات کے لیے ایک نیا معیار قائم کرے گا۔ قانونی ماہر نکولس کومجیان نے کہا کہ اس مقدمے سے یہ طے ہوگا کہ نسل کشی کو کس طرح پرکھا جائے اور اس کی خلاف ورزیوں کا ازالہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔
روہنگیا کمیونٹی کی امیدیں
بنگلہ دیش کے کوکس بازار میں رہائش پذیر روہنگیا پناہ گزینوں نے اس مقدمے کو انصاف کی نئی کرن قرار دیا۔ توفیق المحسن نے کہا کہ “ہمیں امید ہے کہ ICJ کی سماعت ہماری دہائیوں پر محیط مشکلات اور انکار کو ختم کرے گی اور حقیقی انصاف، جواب دہی اور تحفظ فراہم کرے گی۔”
37 سالہ جنیفا بیگم نے کہا کہ “ہماری خواتین نے فوجی کارروائی کے دوران اپنی عزت کھو دی، دیہات جلا دیے گئے، مرد قتل ہوئے اور خواتین اجتماعی زیادتی کی شکار بنیں۔ ہم انصاف اور امن چاہتے ہیں۔”
عدالت کی کارروائی
ICJ کی سماعتیں تین ہفتے جاری رہیں گی اور یہ پہلی بار ہے کہ روہنگیا متاثرین بین الاقوامی عدالت میں سنے جائیں گے، اگرچہ حساسیت کی وجہ سے یہ سیشن عام لوگوں اور میڈیا کے لیے بند ہوں گے۔ لیگل ایکشن ورلڈ وائیڈ کے مطابق، اگر میانمار کو نسل کشی کا ذمہ دار قرار دیا گیا تو یہ قانونی طور پر ایک تاریخی قدم ہوگا۔
میانمار کی سیاسی صورتحال
پہلے کے دور حکومت میں آنگ سان سوچی نے مقدمے کے الزامات کو رد کیا تھا، لیکن 2021 میں فوجی قبضے کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی۔ فوجی حکام اب بھی نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتے ہیں، جبکہ نیشنل یونٹی گورنمنٹ (NUG) نے ICJ کی کارروائی کو قبول کیا اور مقدمے کے ابتدائی اعتراضات واپس لے لیے۔
بین الاقوامی اثرات
اس مقدمے کے نتائج نہ صرف میانمار بلکہ دنیا کے دیگر حصوں میں بھی اثر ڈال سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے ممالک میں جہاں انسانی حقوق کی پامالی کے الزامات ہیں۔ بین الاقوامی برادری اس مقدمے کو روہنگیا کے حقوق کے تحفظ اور میانمار میں ناانصافی کے خاتمے کے لیے ایک اہم قدم سمجھ رہی ہے۔



