نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار آج سعودی عرب میں او آئی سی وزرائے خارجہ کے غیر معمولی اجلاس میں شرکت کریں گے
فلسطین اور غزہ کی صورتحال، امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز اور مشترکہ حکمتِ عملی اجلاس کے ایجنڈے میں شامل

نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار آج سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقد ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کے غیر معمولی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ اس اہم اجلاس میں غزہ اور فلسطین کی تازہ ترین صورتحال، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، انسانی بحران اور امتِ مسلمہ کو درپیش سیاسی و سفارتی چیلنجز پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔
دفترِ خارجہ کے مطابق او آئی سی کا یہ غیر معمولی اجلاس سعودی عرب کی میزبانی میں بلایا گیا ہے جس میں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ، اعلیٰ سفارتی نمائندے اور او آئی سی کے اعلیٰ حکام شرکت کر رہے ہیں۔ اجلاس کا مقصد فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار، اسرائیلی جارحیت کی مذمت، فوری جنگ بندی کے مطالبے اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔
نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کا دو ٹوک مؤقف پیش کریں گے کہ فلسطین کا مسئلہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ پاکستان ایک آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ اسحاق ڈار پاکستان کی جانب سے غزہ میں فوری جنگ بندی، شہری آبادی کے تحفظ اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی پر زور دیں گے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران مسلم دنیا کو درپیش دیگر اہم مسائل، بشمول اسلاموفوبیا، خطے میں امن و استحکام، عالمی طاقتوں کے کردار اور او آئی سی کے مؤثر کردار پر بھی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ اسحاق ڈار او آئی سی کے پلیٹ فارم سے مسلم ممالک کے درمیان اتحاد، مشترکہ سفارتی حکمتِ عملی اور اجتماعی آواز کی اہمیت کو اجاگر کریں گے۔
سعودی عرب کی قیادت میں منعقد ہونے والا یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب غزہ میں انسانی بحران سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ ہزاروں فلسطینی شہری شہید اور زخمی ہو چکے ہیں جبکہ بنیادی سہولیات شدید متاثر ہیں۔ پاکستان پہلے ہی مختلف عالمی فورمز پر فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کرتا رہا ہے اور انسانی امداد کی فراہمی میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔
نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال، باہمی تعاون اور عالمی امور پر تبادلۂ خیال متوقع ہے۔ پاکستان کی کوشش ہو گی کہ او آئی سی کے پلیٹ فارم سے ایک مضبوط اور متفقہ پیغام دنیا کے سامنے رکھا جائے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق او آئی سی کا یہ غیر معمولی اجلاس نہ صرف فلسطینی عوام کے لیے اہم ہے بلکہ مسلم دنیا کے اجتماعی کردار کے تعین میں بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کا فعال سفارتی کردار اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسلام آباد عالمی سطح پر مظلوم اقوام کے حق میں اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔
اجلاس کے اختتام پر متوقع مشترکہ اعلامیے میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت، جنگ بندی کے مطالبے، انسانی امداد کی فراہمی اور فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا جائے گا۔ پاکستان اس اعلامیے کی بھرپور حمایت کرے گا اور اس پر عمل درآمد کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کا اعلان کرے گا۔


