
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں گزشتہ دو کاروباری دنوں کے دوران غیر معمولی تیزی دیکھی گئی، جس کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس نے مسلسل نئی بلند ترین سطحیں قائم کیں۔ سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی اور مثبت معاشی توقعات نے مارکیٹ کو مضبوط سہارا فراہم کیا۔
پہلے دن کاروبار کے آغاز سے ہی مارکیٹ میں تیزی کا رجحان غالب رہا اور انڈیکس نے دن کے دوران کئی اہم نفسیاتی حدیں عبور کیں۔ بینکنگ، توانائی، تیل و گیس اور سیمنٹ سیکٹرز میں نمایاں خریداری کے باعث مارکیٹ کا مجموعی ماحول مثبت رہا۔ کاروبار کے اختتام تک انڈیکس نمایاں اضافے کے ساتھ بند ہوا، جس نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید تقویت دی۔
دوسرے دن بھی مارکیٹ نے اپنی مثبت رفتار برقرار رکھی۔ کاروباری سیشن کے دوران انڈیکس نے نئی تاریخی سطح کو چھوا اور ایک بار پھر ریکارڈ قائم کیا۔ بڑے سرمایہ کاروں اور ادارہ جاتی خریداروں کی سرگرمی کے باعث مارکیٹ میں مضبوطی دیکھی گئی، جبکہ بعض اوقات منافع سمیٹنے کا رجحان بھی سامنے آیا، تاہم اس سے مارکیٹ کی مجموعی سمت متاثر نہیں ہوئی۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ دو دنوں میں اسٹاک مارکیٹ کی تیزی کی اہم وجوہات میں معاشی استحکام سے متعلق مثبت اشارے، حکومتی پالیسیوں پر بڑھتا ہوا اعتماد اور کمپنیوں کی مالی کارکردگی کے حوالے سے بہتر توقعات شامل ہیں۔ خاص طور پر بینکنگ سیکٹر نے دونوں دنوں میں نمایاں کردار ادا کیا اور انڈیکس میں اضافے کا باعث بنا۔
توانائی اور تیل و گیس کے شعبے میں بھی سرمایہ کاروں کی دلچسپی برقرار رہی، جس سے مارکیٹ کو مزید سہارا ملا۔ اسی طرح سیمنٹ اور تعمیراتی شعبے کے شیئرز میں بھی خریداری دیکھی گئی، جو معاشی سرگرمیوں میں بہتری کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تاریخی سطحوں پر پہنچنے کے بعد قلیل مدتی اتار چڑھاؤ اور منافع خوری ایک فطری عمل ہے، تاہم گزشتہ دو دنوں کی مجموعی کارکردگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مارکیٹ کا رجحان تاحال مثبت ہے۔ اگر معاشی حالات میں استحکام برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں بھی مارکیٹ میں تیزی کا تسلسل برقرار رہنے کا امکان ہے۔
سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ جذباتی فیصلوں کے بجائے محتاط حکمت عملی اپنائیں اور مارکیٹ کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سرمایہ کاری کریں، کیونکہ عالمی اور مقامی عوامل کسی بھی وقت مارکیٹ پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔



