آزاد کشمیر معاہد پر عملدرآمد کا حتمی اعلان، وفاقی وزیر امیر مقام کا بڑا اعلان،
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے معاہدے پر مکمل عملدرآمد کا عزم، تفصیلات سامنے آ گئیں

وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان اور سیفران انجینئر امیر مقام نے آزاد جموں و کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر مکمل عملدرآمد کا واضح اور دوٹوک اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کسی دباؤ یا ابہام کے بغیر تمام نکات پر عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں عملی اقدامات جاری ہیں۔
اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ آزاد کشمیر میں عوامی احتجاج کے بعد وفاقی حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان 38 نکاتی معاہدہ طے پایا تھا، جس پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایات پر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس کمیٹی نے اسلام آباد اور مظفرآباد میں متعدد اجلاس منعقد کر کے پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔
امیر مقام نے واضح کیا کہ اسلام آباد میں اجلاس کی تاریخ اچانک طے نہیں کی گئی بلکہ اس پر پہلے ہی مظفرآباد میں مشترکہ اجلاس کے دوران اتفاق ہو چکا تھا، جہاں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ اگلا اجلاس 5 جنوری کو اسلام آباد میں منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ طے شدہ شیڈول کے مطابق اجلاس منعقد ہوا، تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اراکین اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔
وفاقی وزیر نے اعتراف کیا کہ معاہدے پر عملدرآمد میں کچھ تاخیر ضرور ہوئی، جس کی ایک بڑی وجہ آزاد کشمیر میں سابق حکومت کا دور تھا۔ ان کے مطابق یہی تاخیر بعد ازاں خطے میں سیاسی تبدیلی کا باعث بنی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وزیراعظم آزاد کشمیر کو صرف ایک ماہ ہوا ہے، تاہم اس مختصر مدت میں متعدد کابینہ اجلاس منعقد کیے گئے، ضروری احکامات جاری کیے گئے اور کابینہ سے منظوری لے کر معاہدے کے نکات پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے۔
امیر مقام نے موجودہ آزاد کشمیر حکومت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف خود اس پورے عمل کی نگرانی کر رہے ہیں اور انہوں نے آزاد کشمیر کا دورہ کر کے عوام کو معاہدے پر عملدرآمد کی یقین دہانی بھی کروائی۔
پریس کانفرنس میں معاہدے پر عملدرآمد کی تفصیلات بتاتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ احتجاج کے دوران درج کی گئی تقریباً 192 ایف آئی آرز میں سے 177 واپس لے لی گئی ہیں، جبکہ صرف 15 سنگین نوعیت کے مقدمات باقی ہیں جن کا تعلق اموات سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام گرفتار مظاہرین کو رہا کر دیا گیا ہے۔ اضافی ایف آئی آرز کی جانچ پڑتال کے مطالبے پر آزاد کشمیر کابینہ نے عدالتی کمیشن کے قیام کی منظوری دی ہے، اور یہ معاملہ چیف جسٹس آزاد کشمیر کو ارسال کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ معاہدے کے مطابق وزرا اور سیکریٹریز کی تعداد 20 تک محدود کر دی گئی ہے، غیر ضروری محکموں کو ضم کیا گیا ہے، معطل ملازمین کو بحال کر دیا گیا ہے، جبکہ زخمیوں اور جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ کو مالی معاوضہ ادا کیا جا چکا ہے۔ جاں بحق افراد کے ورثا کو ملازمتیں بھی فراہم کی گئی ہیں۔
مالی اور انتظامی اصلاحات پر بات کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ آزاد کشمیر بینک کے سرمائے کی ضروریات پوری کر دی گئی ہیں، جس کے بعد بینک کا ادا شدہ سرمایہ 10 ارب روپے تک بڑھا دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک بین الاقوامی کنسلٹنٹ فرم کی خدمات حاصل کی گئی ہیں اور جدید کور بینکنگ سسٹم متعارف کروایا جا رہا ہے۔
منگلا ڈیم سے متعلق معاوضوں کے مسائل کے حل کے لیے وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید کی سربراہی میں وزارتی کمیٹی کام کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹیکسوں اور پراپرٹی ٹرانسفر سے متعلق مطالبات بھی تسلیم کر لیے گئے ہیں، جبکہ پراپرٹی ٹرانسفر سے متعلق آرڈیننس صدر کو ارسال کر دیا گیا ہے، جس کی منظوری چند روز میں متوقع ہے۔
کنیکٹیوٹی اور تعلیم کے شعبے میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ یونیورسل سروس فنڈ کے سی ای او اور بورڈ ممبران تعینات کر دیے گئے ہیں، جبکہ موبائل اور انٹرنیٹ سروس سے متعلق مطالبات پر بھی عملدرآمد ہو چکا ہے۔ آزاد کشمیر کابینہ نے دو تعلیمی بورڈز کی منظوری دے دی ہے، جبکہ میڈیکل کالجز میں اوپن میرٹ پالیسی کا نفاذ رواں سال کر دیا گیا ہے۔ طلبہ یونینز کو بھی بحال کر دیا گیا ہے۔
ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ مظفرآباد، جہلم ویلی، سندھوٹی، کوٹلی سمیت 10 اضلاع میں پانی کی فراہمی کے منصوبوں پر فزیبلٹی اور عملی کام شروع ہو چکا ہے۔ کئی منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے، ٹینڈرنگ مکمل ہو چکی ہے اور مختلف اسکیموں پر کام جاری ہے۔ پلوں اور رابطہ سڑکوں کے منصوبے بھی شامل ہیں۔
صحت کے شعبے میں ایک اہم اعلان کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ ہیلتھ کارڈ اسکیم 20 جنوری تک لانچ کر دی جائے گی۔ ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین مشینوں کے تخمینے تیار کر کے متعلقہ حکام کو ارسال کر دیے گئے ہیں، جبکہ آپریشن تھیٹرز اور نرسری سطح کی صحت سہولیات کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔
مہاجرین کی نمائندگی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ایک قانونی کمیٹی کے قیام پر اتفاق ہو چکا ہے، جبکہ وفاقی حکومت نے آزاد کشمیر حکومت اور ایکشن کمیٹی کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
وفاقی وزیر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے آزاد کشمیر میں ہوائی اڈے کے منصوبے کی فزیبلٹی رپورٹ تیار کر کے متعلقہ محکمے کو ارسال کر دی ہے۔
اس اہم پریس کانفرنس میں وزیر خزانہ و ان لینڈ ریونیو چوہدری قاسم مجید اور وزیر ایلیمنٹری و سیکنڈری ایجوکیشن دیوان علی خان بھی شریک تھے۔
یہ اعلانات آزاد کشمیر میں جاری بے چینی کے خاتمے اور حکومتی وعدوں کی عملی تعبیر کی جانب ایک فیصلہ کن قدم قرار دیے جا رہے ہیں



