خیبر پختونخوا رورل اکنامک ٹرانسفارمیشن پراجیکٹ: دیہی ترقی، ہنرمندی اور خود انحصاری کی جانب مضبوط پیش رفت
خیبر پختونخوا رورل اکنامک ٹرانسفارمیشن پراجیکٹ (KP-RETP) صوبائی حکومت کا ایک نمایاں اور کثیرالجہتی ترقیاتی منصوبہ ہے جو دیہی علاقوں میں غربت کے خاتمے، پائیدار روزگار کی فراہمی اور معاشی خود انحصاری کے فروغ کے لیے مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ منصوبہ عالمی ادارے انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈیولپمنٹ (IFAD) کے تعاون سے نافذ کیا جا رہا ہے، جبکہ یورپی یونین (EU) کی جانب سے فراہم کردہ گرانٹ نے اس منصوبے کو مزید مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔ منصوبے کو حکومتِ خیبر پختونخوا کی قیادت اور پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی سرپرستی حاصل ہے، جو اس کی شفاف اور مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنا رہی ہے۔
KP-RETP ایک کثیر شعبہ جاتی منصوبہ ہے جس کا دائرہ کار زرعی ترقی تک محدود نہیں بلکہ ٹیکنیکل و ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (TVET)، سماجی بہبود، خواتین کے معاشی استحکام، نوجوانوں کی شمولیت، ماحولیاتی بہتری اور دیہی کمیونٹیز کے بااختیار بنانے تک پھیلا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس منصوبے کی صوبائی اسٹیئرنگ کمیٹی میں زراعت، صنعت، تعلیم، سماجی بہبود، خواتین کی ترقی اور دیگر متعلقہ محکموں کی نمائندگی شامل ہے، تاکہ بین الشعبہ جاتی ہم آہنگی کے ساتھ دیرپا نتائج حاصل کیے جا سکیں۔
منصوبے کے تحت انتہائی غریب اور مستحق افراد کے انتخاب کے لیے ایک شفاف، قابلِ تصدیق اور ادارہ جاتی طریقہ کار اپنایا گیا ہے۔ مستحقین کی نشاندہی کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے ڈیٹا اور ویلج کونسل کی سطح پر تصدیقی نظام کو بروئے کار لایا جا رہا ہے، جبکہ مانیٹرنگ اور ایویلیوایشن کمیٹیاں اس عمل کی باقاعدہ نگرانی کرتی ہیں۔ بدلتی معاشی صورتحال اور مہنگائی کے تناظر میں منصوبے نے اپنے ہدف کو مزید مؤثر بنانے کے لیے دائرہ کار کو وسعت دی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ضرورت مند خاندان اس سے مستفید ہو سکیں۔
KP-RETP کا ایک نمایاں جزو ٹیکنیکل اور ووکیشنل تربیت ہے، جس کے ذریعے نوجوانوں اور خواتین کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق جدید ہنر فراہم کیے جا رہے ہیں۔ یہ تربیتیں صوبے کے 28 اضلاع میں 25 سے زائد شعبہ جات میں منعقد کی جا رہی ہیں، جن میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI)، صنعتی آٹومیشن، الیکٹریکل و مکینیکل اسکلز، پلمبنگ، سی سی ٹی وی انسٹالیشن، شہد کی مکھی بانی، ایگری بزنس اور ہاسپیٹیلٹی جیسے شعبے شامل ہیں۔ ان تربیتوں کے لیے TEVTA اور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (UET) جیسے معتبر اداروں کے ساتھ شراکت داری کی گئی ہے۔
اب تک منصوبے کے تحت بیس ہزار سے زائد افراد کو ہنر مند بنایا جا چکا ہے، جبکہ تربیت کے بعد سرٹیفیکیٹس کمپیٹینسی بیسڈ ٹیسٹنگ (CBT) کے ذریعے جاری کیے جا رہے ہیں، جو آزاد اور مستند امتحانی اداروں کے زیرِ انتظام ہوتی ہے۔ درخواستوں کی وصولی کے لیے آن لائن پورٹل، قومی اخبارات میں اشتہارات، اور شکایات کے ازالے کے مؤثر نظام نے اس پورے عمل کو شفاف اور قابلِ اعتماد بنایا ہے۔
منصوبے کی پیش رفت، مالی نظم و ضبط اور زمینی نتائج کی بین الاقوامی سطح پر نگرانی کی جا رہی ہے۔ IFAD کی جانب سے باقاعدہ سپروائزری اور امپلیمنٹیشن سپورٹ مشنز، فیلڈ وزٹس اور جائزہ اجلاس منعقد کیے جاتے ہیں، جن میں منصوبے کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔ یورپی یونین اور دیگر شراکت دار ادارے بھی شفافیت اور مؤثر عمل درآمد کے لیے تکنیکی تعاون فراہم کر رہے ہیں۔
آج KP-RETP خیبر پختونخوا کے دیہی علاقوں میں امید، خود اعتمادی اور معاشی استحکام کی ایک مضبوط علامت بن چکا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے بلکہ نوجوانوں اور خواتین کو بااختیار بنا کر صوبے میں پائیدار اور جامع ترقی کی بنیاد رکھ رہا ہے۔ صوبائی حکومت اس عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے کہ KP-RETP کے ذریعے دیہی خیبر پختونخوا کو خوشحال، خود کفیل اور ترقی یافتہ بنایا جائے۔


