ہزارہ

جماعت اسلامی پاکستان کا یہ تاریخی اور فقید المثال اجتماع اعلان کرتا ہے کہ جس طرح پورے پاکستان کا نظام بگڑ چکا ہے، عوام مہنگائی، بے روزگاری، ناانصافی اور بدانتظامی کا شکار ہیں عبدالرازق عباسی، امیر جماعت اسلامی ہزارہ

جماعت اسلامی پاکستان کا یہ تاریخی اور فقید المثال اجتماع اعلان کرتا ہے کہ جس طرح پورے پاکستان کا نظام بگڑ چکا ہے، عوام مہنگائی، بے روزگاری، ناانصافی اور بدانتظامی کا شکار ہیں، نوجوان اپنے مستقبل سے مایوس ہو کر ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں—اُس سے کہیں زیادہ سنگین اور المناک صورتِ حال ہزارہ کے اس قدرتی وسائل سے مالا مال خطے کی ہے۔
ہزارہ پاکستان کا ایک قدیم، باوقار، قومی اہمیت کا حامل اور شہداء کی سرزمین ہے۔ اس کا کل رقبہ 17 ہزار مربع کلومیٹر اور آبادی 62 لاکھ کے قریب ہے۔ 1947 کے ریفرنڈم میں خیبرپختونخوا کے پاکستان سے الحاق کے فیصلے میں ہزارہ نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ شہداء کی اس سرزمین نے ہمیشہ اسلام اور پاکستان کے ساتھ وفاداری، ایثار اور قربانی کی عظیم تاریخ رقم کی۔
بدقسمتی سے ہزارہ گزشتہ 8 دہائیوں سے اپنے جائز سیاسی، انتظامی، اقتصادی اور ترقیاتی حقوق سے محروم ہے۔
مسلم لیگ ن، پاکستان تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کی مسلسل حکومتوں نے ہزارہ کے عوام کے ساتھ سنگین بدعہدی کی، ان کے اعتماد کو مجروح کیا اور ان کے بنیادی حقوق کو نظرانداز کرکے ذاتی مفادات کو ترجیح دی۔
یہ اجتماع ان جماعتوں کے ہزارہ دشمن طرزِ عمل کی شدید مذمت کرتا ہے۔
ہزارہ صوبہ — اہلیانِ ہزارہ کا جائز اور آئینی حق
ہزارہ کی 62 لاکھ آبادی، 17 ہزار مربع کلومیٹر رقبے، تاریخی حیثیت، وسائل اور جغرافیائی اہمیت کو دیکھتے ہوئے ہزارہ کو فوری طور پر صوبے کا درجہ دیا جائے۔
ہزارہ کی آبادی دنیا کے کئی ممالک کے صوبہ جات سے زیادہ ہے۔
صوبہ ہزارہ نہ صرف عوام کا آئینی حق ہے بلکہ وقت کی ضرورت بھی ہے۔
ہزارہ قدرتی، آبی، معدنی اور جنگلاتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے۔
• معدنی وسائل کو عوامی فلاح کے لیے استعمال کیا جائے۔
• حطار انڈسٹریل اسٹیٹ کے مسائل فوری حل کیے جائیں۔
• صنعتی زون کو رعایتی نرخوں پر بجلی دی جائے
• محنت کشوں کے لیے مقامی و بااختیار شکایتی نظام بنایا جائے۔
• ایبٹ آباد اور مانسہرہ کی سمال انڈسٹریز کو ایکسپورٹ پروموشن زون کا درجہ دیا جائے
• پکھل، اگرور، تورغر، بٹگرام، پٹن اور داسو میں مقامی خام مال پر مبنی صنعتیں قائم کی جائیں۔
• سی پیک کا مرکزی راستہ ہزارہ سے گزرتا ہے لیکن سی پیک کے فوائد سے ہزارہ محروم ہے۔
• ہزارہ کو ڈرائی پورٹ، صنعتی زون اور تجارتی مراکز کے وعدے پورے نہیں کیے گئے۔
• یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ سی پیک کے ثمرات ہزارہ کے عوام تک پہنچائے جائیں
تاریخی شاہراہِ ریشم حسن ابدال سے خنجراب تک دو رویہ کی جائے۔
ہری پور تا بشام چَھپر روڈ کے متوازی ایکسپریس وے تعمیر کیا جائے جس سے اوگی، بٹل، تورغر اور دریائے سندھ کے دونوں کناروں کے علاقے ترقی کریں گے۔
۔ ہزارہ کے پورے خطے میں جدید، محفوظ اور معیاری سڑکوں کا جال بچھایا جائے تا کہ دیہاتوں میں بستے والی لاکھوں کی آبادی ترقی کی دوڑ میں شامل ہو سکے۔
ہزارہ پاکستان کے بہترین سیاحتی مقامات (گلیات، کاغان، ناران، الائی، سرن، اگرور، کونش ویلی) کا مرکز ہے لیکن:
سہولیات کی کمی، بدانتظامی اور صوبائی حکومت کی کرپشن کے باعث سیاحت تباہ ہو رہی ہے۔
یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ ہزارہ ٹورازم کی خود مختار اتھارٹی قائم کی جائے جو ہنگامی بنیادوں پر
• روڈ نیٹ ورک
• ریزورٹس
• انفراسٹرکچر
• ریسکیو میکانزم اور
• ٹریکنگ روٹس بنائے۔
ہزارہ پاکستان کو تقریباً 80٪ پن بجلی فراہم کرتا ہے:
تربیلا، بوئی، سکی کناری، الائی، پٹن، داسو — سب ڈیم ہزارہ کی زمینوں، گھروں اور قبروں پر تعمیر ہوئے۔
اسلام آباد، پنڈی، لاہور کے محلات روشن ہیں…
لیکن ہزارہ کے لوگ اندھیروں میں ہیں۔
کئی پاور ہاؤسز کے قریبی علاقے آج تک بجلی سے محروم ہیں۔
تربیلا ڈیم کی 2200 ارب روپے رائلٹی مرکز پر واجب الادا ہے۔
مرکز خیبرپختونخوا کو مکمل رائلٹی نہیں دیتا — اور پشاور ہزارہ کو اس کا حق نہیں دیتا۔
ہزارہ کے پانیوں سے پیدا ہونے والی بجلی کی رائلٹی میں سے خیبرپختونخوا کو ملنے والی رقم کا کم از کم 80٪ حصہ ہزارہ کو دیا جائے۔
اس کے شفاف استعمال اور ہزارہ کی ترقی پر خرچ کرنے کی آئینی ضمانت دی جائے۔
Hesco کمپنی
ہزارہ کے لوگوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا کہ Hesco کمپنی بننے سے بے روزگاری اور بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی ہو گی لیکن بدقسمتی سے کمپنی میں غیر مقامی لوگوں کو ملازمت پر رکھا جارہا ہے جبکہ لوڈ شیڈنگ میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا ہے۔
یہ عظیم الشان اجتماع عام مطالبہ کرتا ہے کہ Hesco میں بھرتیوں میں ہزارہ کو اس کا آئینی وقانونی حق دیتے ہوئے مقامی لوگوں کو ترجیح دی جائے اور ہزارہ سے لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔
NFC اور PFC کے تحت ہزارہ کا جائز حصہ جس سے ہزارہ ابھی تک محروم رہا ہے،فوری طور پر دیا جائے۔
ہزارہ کے پہاڑ،سرسبز جنگلات اور قیمتی معدنیات سے مالامال ہیں
ہزارہ کے جنگلات، معدنیات اور قدرتی دولت کو مافیاز لوٹ کر تباہ کر رہے ہیں۔
لاکھوں فٹ لکڑی دریا برد ہو رہی ہے یا اسمگل ہو رہی ہے۔
معدنیات کی رائلٹی اربوں میں ہے مگر ہزارہ کے عوام تک کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔
کئی اسمگلنگ نیٹ ورکس حکومتی سرپرستی میں چل رہے ہیں۔
• تمام قیمتی جنگلات کی کٹائی فوری روکی جائے۔
• اسمگلروں اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کو جیلوں میں ڈالا جائے۔
• جنگلات اور معدنیات کی آمدنی ہزارہ کی ترقی اور ماحول کی بحالی پر خرچ کی جائے۔
ہزارہ کی 62 لاکھ آبادی کے لیے:
صرف ایک بڑا ہسپتال (ایوب میڈیکل کمپلیکس) ہے جو کرپشن اور بدانتظامی کا شکار ہے۔
یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ:
تورغر، اوگی، شیروان، بکوٹ، لورہ، شنکیاری، غازی، خانپور، الائی، بالاکوٹ، دربند، پٹن اور داسو میں جدید ہسپتال قائم کیے جائیں
مانسہرہ میں میڈیکل کالج اورایک مزید ٹیچنگ ہسپتال کی اشد ضرورت ہے۔
بٹگرام میں مکمل یونیورسٹی قائم کی جائے۔
مانسہرہ میں خواتین کی پیشہ وارانہ تعلیم کی یونیورسٹی قائم کی جائے۔
کوہستان کے تینوں اضلاع اور تورغر میں ٹیکنیکل و پروفیشنل ادارے قائم کیے جائیں۔
پورے ملک کی طرح ہزارہ بھی کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے۔
• ہزارہ کے صرف ایک ضلع اپر کوہستان میں ہی 40 ارب روپے کا تاریخی کرپشن اسکینڈل حکومتی سرپرستی میں ہوا۔
• ایوب میڈیکل کمپلیکس میں 36 کروڑ روپے کی لوٹ مار ہوئی۔
یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ:
تمام کرپٹ عناصر کو گرفتار کیا جائے اور لوٹی ہوئی تمام دولت واپس لے کر ہزارہ کی ترقی پر خرچ کی جائے۔
• نواز شریف نے ہزارہ سے دو مرتبہ وزیراعظم بن کر
• عمران خان نے 13 سال اقتدار میں رہ کر
• پیپلز پارٹی کی قیادت نے متعدد بار آکر
• مولانا فضل الرحمان نے بار بار
صوبہ ہزارہ کے قیام اور عوامی حقوق کا وعدہ کیا—لیکن کسی نے پورا نہ کیا۔
• سراج الحق صاحب نے بحیثیت سینئر وزیر صوبائی اسمبلی سے صوبہ ہزارہ کی قرارداد دو تہائی اکثریت سے منظور کروا کر مرکز کو بھجوائی، لیکن دیگر جماعتوں نے اسے پس پشت ڈال دیا۔
• ہزارہ کے شہداء اور زخمیوں کے خون پر سیاست کی گئی، عوام کے زخموں پر نمک پاشی کی گئی۔
یہ اجتماع اعلان کرتا ہے کہ:
• جماعت اسلامی ہزارہ کے عوام کے حقوق کے لیے بھرپور جدوجہد کرے گی۔
• صوبہ ہزارہ کے قیام تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔
• ان شاء اللہ ! حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں ہزارہ کے عوام کے حقوق کی جدوجہد ضرور کامیابی سے ہمکنار ہو گی۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button