
پاکستانی نژاد برطانوی بہن بھائی عبداللہ اسحاق صدیق اور من تشاء اسحاق صدیق نے 15ویں نارویجین ورلڈ مارشل آرٹس گیمز 2025 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا بھر میں پاکستان اور برطانیہ کا نام روشن کر دیا۔
یہ بین الاقوامی مقابلے 6 نومبر 2025 کو ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ایک شاندار افتتاحی تقریب کے ساتھ شروع ہوئے اور تین روز تک جاری رہے۔ اس دوران مارشل آرٹس کی مختلف کیٹیگریز میں سنسنی خیز مقابلے منعقد ہوئے۔

عبداللہ اسحاق صدیق نے اپنی غیر معمولی مہارت اور فنی چابکدستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 6 طلائی، 2 چاندی کے اور 3 کانسی کے تمغے حاصل کیے، جبکہ ان کی بہن من تشاء اسحاق صدیق نے بھی شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے 5 طلائی، 4 چاندی کے اور 2 کانسی کے تمغے اپنے نام کیے۔

دونوں کھلاڑیوں نے مجموعی طور پر 13 مختلف کیٹیگریز میں حصہ لیا اور 11 میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر کے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
یہ شاندار کامیابی ان کی محنت، نظم و ضبط اور عزم و حوصلے کی واضح عکاسی کرتی ہے۔ ان کی کارکردگی نہ صرف نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک مثال ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان اور برطانیہ دونوں کے لیے فخر کا باعث بھی بنی۔ اس سلسلے میں انکے کوچ عرفان انصاری نے کہا ہے کہ بغیر کسی فنڈنگ یا مدد کے، والدین نے قربانیاں دے کر بچوں کو عالمی مقابلے تک پہنچایا، اور کھلاڑیوں نے محنت سے روچڈیل برطانیہ کا نام دنیا میں روشن کیا، خاص کر عبداللہ اور من تشاء نے جس جذبے، استقامت اور مہارت کے ساتھ مقابلہ کیا، وہ آئندہ نسلوں کے لیے ایک نیا معیار اور مشعل راہ ہے۔

ان کی یہ فتح اس حقیقت کا مظہر ہے کہ اصل چیمپئنز سرحدوں سے نہیں بلکہ اپنے جذبے، محنت اور لگن سے پہچانے جاتے ہیں۔



