مردان میں بھکاری مافیا سرگرم: خواتین اور بچوں سے جبری بھیک منگوائی جانے کا انکشاف ؟؟ مختلف چوراہوں پر چھوٹے بھیک مانگنے والے بچوں کا قبضہ شہری پریشان !!!
اسلام اباد ( بیورو رپورٹ ) مردان شہر کے مختلف چوراہوں، بازاروں اور مصروف شاہراہوں پر بھیک مانگنے والوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے، جس میں اکثریت خواتین اور کم عمر بچوں کی ہے۔ یہ افراد روزانہ کی بنیاد پر شہریوں سے بھیک مانگتے دکھائی دیتے ہیں، جس پر شہری حلقوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال نہ صرف شہر کی خوبصورتی کو متاثر کر رہی ہے بلکہ امن و امان اور بچوں کے مستقبل کے لیے بھی شدید خطرہ بن چکی ہے۔ بچوں کا سڑکوں پر بھیک مانگنا ان کی تعلیم، صحت اور ذہنی نشوونما کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ ایک منظم نیٹ ورک ہے جس کے تحت پیشہ ور بھکاری گروہ خواتین اور بچوں کو صبح سویرے شہر کے مختلف چوکوں، بازاروں اور اشاروں پر چھوڑ جاتے ہیں اور شام کو واپس لے جاتے ہیں۔ ان گروہوں کا ایک مخصوص نظام ہے جو پورے مردان میں متحرک ہے۔ مقامی افراد نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ گروہ بچوں کو بطور "آلہ” استعمال کرتے ہیں تاکہ لوگوں کی ہمدردی حاصل کر کے زیادہ پیسہ کمایا جا سکے۔
سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی مؤثر یا منظم کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی، جس پر شہریوں میں مایوسی پائی جا رہی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ انتظامیہ فوری طور پر اس نیٹ ورک کے خلاف مؤثر آپریشن کرے، اور بھیک مانگنے والے بچوں کو بحالی مراکز یا فلاحی اداروں کے ذریعے تعلیم و تربیت کی راہ پر گامزن کیا جائے۔
مقامی سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ "بھیک مانگنا اب ایک کاروبار بن چکا ہے” اور یہ صرف مقامی مسئلہ نہیں رہا بلکہ بعض پاکستانی بھکاری بیرونِ ممالک میں بھی اسی دھندے میں ملوث پائے گئے ہیں، جس سے بین الاقوامی سطح پر ملک کی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے۔
شہریوں نے اعلیٰ حکام، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر حرکت میں آئیں، تاکہ معصوم بچوں اور خواتین کو اس استحصال سے نکالا جا سکے اور مردان شہر کو اس معاشرتی بگاڑ سے پاک کیا جا سکے۔



