قومی

افغان سرحد پر دہشت گردوں کی دراندازی ناکام، وزیرِ اعظم کا سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین

وزیرِ اعظم نے بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی، سرحدی سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کا عزم

افغانستان سے ملحقہ پاکستان کی مغربی سرحد پر دہشت گردوں کی ایک اور دراندازی کی کوشش کو سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، جس پر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور بروقت ردعمل کو سراہتے ہوئے انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اپنے تفصیلی بیان میں انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی اداروں کی مستعدی اور قربانیوں کی بدولت ملک کو ایک بڑے ممکنہ سانحے سے بچا لیا گیا ہے۔

وزیرِ اعظم نے واضح کیا کہ پاکستان کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز میں سرحد پار دہشت گردی ایک اہم مسئلہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے نہ صرف فوج بلکہ دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی مسلسل متحرک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیاب کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کے محافظ ہر لمحہ چوکس ہیں اور کسی بھی خطرے کا بروقت جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

سرحدی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے رات کی تاریکی میں دراندازی کی کوشش کی، جس کا مقصد ممکنہ طور پر ملک کے اندر تخریب کاری کی کارروائیاں کرنا تھا۔ تاہم، جدید نگرانی کے نظام اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر پاکستان آرمی کے جوانوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔ فورسز نے نہایت مہارت کے ساتھ علاقے کو گھیرے میں لے کر دہشت گردوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا، جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق جھڑپ کے دوران دہشت گردوں کو نقصان بھی پہنچا۔

وزیرِ اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، تاہم اس خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی خودمختاری، سلامتی اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اور جو بھی عناصر ملک کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے اس موقع پر سیکیورٹی فورسز کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں قوم کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ہر شہید کا خون اس عزم کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ حکومت ان کی ہر ممکن مدد جاری رکھے گی۔

پاکستان کی مغربی سرحد، جو افغانستان کے ساتھ ایک طویل اور دشوار گزار جغرافیائی پٹی پر مشتمل ہے، کئی دہائیوں سے سیکیورٹی کے حوالے سے حساس رہی ہے۔ پہاڑی علاقوں، دشوار گزار راستوں اور غیر منظم سرحدی علاقوں کی وجہ سے دہشت گرد عناصر اکثر دراندازی کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ تاہم، گزشتہ چند برسوں میں پاکستان نے سرحدی نگرانی کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں باڑ کی تنصیب، چیک پوسٹس کا قیام، اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال شامل ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ان اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سرحدی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید آلات، ڈرون نگرانی، اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے ذریعے دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، جس کے باعث ان کے لیے دراندازی کرنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فوجی کارروائیوں تک محدود نہیں بلکہ اس میں سماجی، معاشی اور سیاسی پہلو بھی شامل ہیں۔ وزیرِ اعظم کے مطابق پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ سرحدی علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کو فروغ دیا جائے، روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، اور مقامی آبادی کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے۔ اس حوالے سے حکومت مختلف ترقیاتی پروگرامز پر کام کر رہی ہے تاکہ ان علاقوں میں استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

بین الاقوامی سطح پر بھی وزیرِ اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے، جس کے خاتمے کے لیے عالمی تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرے اور پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنائے۔

انہوں نے افغانستان کی عبوری حکومت پر بھی زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی قسم کی دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات اور باہمی تعاون ہی خطے میں پائیدار امن کی ضمانت بن سکتے ہیں۔

وزیرِ اعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت اور سیکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی اور ملک کے ہر کونے کو محفوظ بنایا جائے گا۔

عوامی سطح پر بھی اس کامیاب کارروائی کو سراہا جا رہا ہے، اور سوشل میڈیا پر سیکیورٹی فورسز کے حق میں جذبات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ملک کے محافظوں کی قربانیوں کی بدولت ہی وہ محفوظ زندگی گزار رہے ہیں۔

اختتام پر وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن اور مستحکم مستقبل کی جانب گامزن ہے، اور اس راستے میں درپیش تمام چیلنجز کا مقابلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ قوم متحد ہو کر دہشت گردی کے خلاف کھڑی ہے اور دشمن کے ہر منصوبے کو ناکام بنایا جائے گا۔ انہوں نے سیکیورٹی فورسز کو یقین دلایا کہ پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی ہر قربانی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button